لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ عمران خان اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا سیاسی، آئینی اور جمہوری بردباری سے مقابلہ کرنے کے بجائے مخالفین کی طاقت کو زیرو کرنے کے لیے راولپنڈی اسٹیڈیم کی وکٹ کی طرح سیاسی وکٹ کو بھی مردہ کرنا چاہتے ہیں۔ شدت، عدم برداشت، سیاسی انتہاپسندی اور دہشت گردی پوائنٹ آف نوریٹرن پیدا کررہی ہے، جس کا نتیجہ بہت خوفناک ہوگا۔ خانیوال میں دھرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان تحریکِ عدم اعتماد کا مقابلہ اسپورٹس مین شپ سے کریں۔ حکومت کے خلاف احتجاج اور تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کا آئینی حق ہے۔ عمران خان کا اسلوبِ بیان، توہین و تحقیر کی زبان سے حالات پر جلتی پر تیل کی طرح ہے۔ سیاسی، آئینی بحران شدت اختیار کررہا ہے، ملک کے اندر عوام مہنگائی، بے روزگاری، اسٹریٹ کرائم کا شکار، بلدیاتی، عدالتی، سماجی اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور ملک کے اردگرد بحرانوں کے الاؤ خوفناک ہوگئے ہیں۔ بھارتی میزائل خانیوال میں فوجی اسلحہ ڈپو کو ٹارگٹ کررہے ہیں لیکن قومی قیادت کا زہر آلود، غیرذمے دارانہ رویہ خوفناک اورقومی کردار سے عاری ہے۔ یہ امر نوشتہ دیوار ہے کہ نظام اور فرسودہ ناکارہ نظام چلانے والے ملک و ملت کے لیے بوجھ بن گئے ہیں۔لیاقت بلوچ نے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی خواتین کے معاشی، معاشرتی، سیاسی اور وراثتی حقوق کی علمبردار ہے۔ ملک کی مائیں، بیٹیاں مطمئن اور خوشحال ہوںگی تو ملک مضبوط اور ترقی کرے گا۔ 70 سال سے اقتدار اور پالیسی سازی پر قابض طبقوں، جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ اور غلامانہ ذہنیت نے خواتین کو تعلیم، روزگار، عزت، وقار، وراثت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا ہے۔ پاکستان کی خواتین نے گھر اور خاندان کے محاذ کو سنبھالنے کا حق ادا کیا ہے۔ تعلیم، ملازمتوں، فنی مہارت اور امتحانات میں قوم کی بیٹیوں نے اپنی برتری ثابت کردی ہے۔ جماعت اسلامی خواتین کو ملک و ملت کو مستحکم، خوشحال بنانے کے لیے فعال کردار دے گی۔ خواتین کے لیے تعلیم، صحت کی سہولتیں، روزگار کی فراہمی، سفری سہولیات میں آسانیوں اور جان، مال، عزت کا تحفظ جماعت اسلامی کی ترجیح ہے۔
