English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت اور ڈیری انڈسٹری کو نظرانداز کررہی ہے،نقصان کا ازالہ کیا جائے،حافظ نعیم الرحمٰن

القمر
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ادارہ نورحق میں ڈیری فارمرز و میٹ مرچنٹ ایسوسی ایشن ،ملک ہول سیلرز و ریٹیلرز، ویٹرنری ڈاکٹرز و ماہرین کے اوپن سیشن سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت بدھ کے روز گائے کے گوشت اور دودھ میں بیماری کے اثرات کے حوالے سے ماہرین کا اوپن سیشن منعقد کیا گیا جس میں ویٹرنری ڈاکٹرز، پیتھالوجسٹ کے علاوہ ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن، میٹ مرچنٹ ایسوسی ایشن، ملک ہو ل سیلر ز، ریٹیلرز ایسوسی ایشنز کے نمائندوںنے شرکت کی ۔اوپن سیشن میں پیتھالوجسٹ ڈاکٹرز اور ماہرین نے اپنی آرا کا اظہار کیا اور گائے کے گوشت اور بھینس کے دودھ کو انسانوں کے استعمال کے لیے درست قراردیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے سیشن سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں افسوس ہے کہ میٹ اور ڈیری انڈسٹری کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ، حکومت سندھ ملک فتح کرنے کے لیے نکلی ہے وفاقی حکومت بھی جلسے کر رہی ہے ، تحریک عدم اعتماد کا بڑا شور ہے لیکن عوام کے بنیادی مسائل کسی کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں ، ہمار امطالبہ ہے کہ حکومت سندھ فوری طور پر اس بیماری کے حوالے سے اوپن سیشن کرے اور تمام ایکسپرٹ کی موجودگی میں واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ بیماری کیا ہے ؟ کیا یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہوسکتی ہے یا نہیں ؟اس بیماری کے علاج کے لیے ویکسی نیشن کو یقینی بنائے، اس مسئلے پر حکومت کی جانب سے نیشنل کمانڈ اینڈ کونسل کا اجلاس طلب کیا جانا چاہیے،آج ڈاکٹرز نے واضح طور پر بتادیا ہے کہ لمپی وائرس بیماری خود ایک جانور سے دوسرے جانور میں بھی منتقل نہیں ہوتی تو انسانوں میں کیسے منتقل ہوسکتی ہے، بحیثیت مجموعی پورے ملک میں ایسا نظام ہے کہ تعلیم اور صحت بھی کاروبار بن گئے ہیں، حکومت عوام سے ٹیکس تو وصول کرتی ہے لیکن عوام کے لیے کچھ نہیں کرتی ،کراچی سے گوشت کی 268ملین کی ایکسپورٹ ہوتی ہے جوکہ کم ہے ، حکومتوں کو بھی اتنے بڑے اور اہم مسئلے سے کوئی غرض نہیں ہے ،بدقسمتی سے پاکستان میں میڈیا اور سوشل میڈیا میں ایسی ایسی چیزوں کو نمایاںکرکے پیش کیا جاتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، میڈیا کا کام ہے کہ اس پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا جائے ، ایکسپرٹ کی رائے کو بھی عوام کے سامنے لایا جائے ۔ ، جس نے غلط رپورٹ شایع کی ہے اس کے خلاف کارروائی کرے ، تحریک عدم اعتماد سے عوام کا کوئی تعلق نہیں ، اپوزیشن جماعتیں حکومت ختم کرنا چاہتی ہیں پہلے وہ یہ بتائیں کہ انہوں نے ملک کے لیے کیا کیا؟ یہ اپنے اپنے کاموں کا حساب تو دیں ،عدم اعتماد میں وہ ریٹ لگوارہے ہیں جنہوں نے ماضی میں بھتا خوری اور جرائم کی وارداتیں کیں،حکومتی جماعتیں ہوں یا اپوزیشن جماعتیں کسی کا بھی ایجنڈا عوام نہیں ، ایف اے ٹی ایف میں تمام حکومتی جماعتوں نے اسٹیٹ بینک کو فروخت کیا، سوائے جماعت اسلامی کے کسی نے مخالفت نہیں کی ، آج جو اپوزیشن بنی ہوئی ہیں وہ ایف اے ٹی ایف کے موقع پر کہاں تھیں ؟واحد جماعت اسلامی ہے جس نے دودھ اور گائے کی بیماری اور اس کے خلاف پروپیگنڈے کے حوالے سے ڈاکٹرز اور ایکسپرٹ پر مشتمل سیشن منعقد کیا اور بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ سب کچھ سوائے دھوکے اور فراڈ کے کچھ نہیں ہے ۔جماعت اسلامی ڈیری فارمرز ،میٹ مرچنٹ ایسوسی ایشنز،ہول سیلرز، ریٹیلرز سمیت تمام ایسوسی ایشنز کے ساتھ ہے ، ہم تمام ایسوسی ایشنز سے بھی کہتے ہیں کہ بحرانی کیفیت میں دودھ اور گوشت کی قیمتوں کے حوالے سے سوچیں۔جماعت اسلامی کے دست و بازو بنیں ،ہم ہی عوام کے مسائل حل کرسکتے ہیں ،جماعت اسلامی کے تحت کراچی کے مسائل کے حل اور حقوق کراچی تحریک کے سلسلے میں 20مارچ کو ’’حقوق کراچی کارواں ‘‘ نکالاجا ئے گا ۔ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر (پیما) کے ڈاکٹر عبدا للہ متقی نے کہاکہ انڈس اور آغاخان اسپتال سمیت بڑے بڑے اسپتالوں کی لیبارٹریز سے رابطہ کیا سب نے ایک ہی بات کی کہ جانوروں سے انسانوں میں بیماری منتقل نہیں ہوتی ، ،اسکن ڈیزیز کی تصاویر جھوٹی اور بے بنیاد ہیں ،میڈیا کا کام ہے کہ حقائق کو سامنے لایا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ دودھ اور گوشت کے خلاف سوائے پروپیگنڈے کے کچھ نہیں ہے ۔کراچی ڈیری فارمرز کے صدرحاجی سکندر نے کہاکہ میں اپنی پوری انڈسٹری کی طرف سے شکر گزار ہوں کہ جماعت اسلامی نے ہمیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا ، کراچی میں 95فیصد دودھ بھینس کا ہی فروخت کیا جاتا ہے ،کراچی میں یومیہ 70لاکھ لیٹر دودھ فروخت کیا جاتا ہے ، آج تک دودھ پینے سے کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا،یومیہ 20فیصد دودھ ضائع اور کروڑوں روپے کا یومیہ نقصان ہورہا ہے ۔بھارت میں جانوروں میں بڑی بیماری آئی اور ختم ہوگئی لیکن وہاں کے میڈیا اور سوشل میڈیا میں بیماری کو اجاگر نہیں کیا گیا بلکہ علاج کیا گیا اور ملک کی معیشت کو بچایا گیا ۔چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اظہر چغتائی نے کہاکہ ہم بچوں کے لیے ایک سال کی عمر تک کے لیے صرف اور صرف ماں کا دودھ پلانے کی تاکید کرتے ہیں ، ایک سال کے بعد گائے یا بھینس کا دودھ استعمال کرایا جاتا ہے اگر اسے اچھی طریقے سے ابال لیا جائے تو پھر دودھ میں ہر قسم کے جراثیم ختم ہوجاتے ہیں ۔چیف پیتھالوجسٹ ڈاکٹر ذیشان انصاری نے کہاکہ مختلف جانوروں میں مخصوص وائرس ہوتے ہیں ، گوشت کو اچھے طریقے سے ابال کر پکایا جائے تو گوشت کسی بھی صورت میں نقصان دہ نہیں ہوتا ،الحمد للہ گوشت کھانے سے کسی کو کوئی بیماری نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی کی موت واقع ہوئی ہے ۔میٹ مرچنٹ کے محمد ندیم قریشی نے کہاکہ لمپی وائرس کی وجہ سے قصاب برادری کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا ہے ،فارما و ویکسین کے نگران و کنٹونمنٹ بورڈ کے منتخب کونسلر ابن الحسن ہاشمی نے کہاکہ لمپی اسکن کا وائرس گزشتہ سال بھارت میں آیا تھا لیکن کسی نے بھی شور شرابہ نہیں کیا اور نہ ہی اس سے کوئی کیس سامنے آیا اوربھارت سے گوشت ایکسپورٹ کر کے پاکستان آتا رہا اور لوگ کھاتے رہے ،پاکستان میں لمپی اسکن کا وائرس پہلی دفعہ آیا ہے جس کا بروقت علاج کیا جاچکا ہے اور احتیاطی تدابیر کی جارہی ہیں اور یہ وائرس بھی صرف گائے میں ہے بھینسوں میں نہیں ہے ،پاکستان میں سوشل میڈیا ایک سازش کے تحت استعمال کیا جارہا ہے ،ویکسین امپورٹ کرنے کی منظوری دی جائے ، بہت جلد جانوروں میں ویکسی نیشن کی جائے گی ۔اسکن ڈیزیز پروفیسر ڈاکٹر محمد ریحان نے کہاکہ لمپی اسکن ایک وائرس ہے جوکہ مویشی میں ہوتا ہے جو کہ مویشی سے مویشی میں ہی ٹرانسفر ہوتا ہے جو کہ ایک مچھر سے منتقل ہوتا ہے ، اس وائرس کی چند علامات ہوتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جانور دودھ نہیں دیتا ،اس کا علاج موجود ہے جسے ویکسی نیشن کے ذریعے سے اس وائرس کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔دودھ کے حوالے سے تشویش بالکل بے جا ہے ، 100ڈگری تک دودھ میں ابال کے بعد ویسے ہی جراثیم ختم ہوجاتے ہیں ۔میٹ مرچنٹ کے شیخ القریش محمد معراج قریشی نے کہاکہ پاکستان حلال انڈسٹری کا ابھرتا ہوا ستارہ ہے لیکن مارکیٹ تک رسائی نہیں دی جاتی ، ایکسپورٹ انڈسٹری میں غیر حلال گوشت کی ترسیل جاری ہے ،ہم حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ دودھ اور گوشت کے حوالے سے جھوٹے پروپیگنڈے کو روکا جائے ،میٹ مرچنٹ کے چیئرمین شیخ القریش شاہد قریشی نے کہاکہ سوشل میڈیا کی فعال شخصیات نے گائے کے گوشت اور بھینسوں کے دودھ کے خلاف مذموم سازش کی ہے جسے ہم نے اگلے ہی روز میڈیا کی ٹیم کو کیٹل کالونی بلایا اور بھینس کالونی کا دورہ کرایا ، ہم شکر گزار ہیں کہ جماعت اسلامی نے ہمارے کو مسئلے کو اٹھا یا۔میں کراچی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز سے پوچھتاہوں کہ وہ کہاں ہیں ؟ کیوں اس پروپیگنڈے کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ؟نائب صدر ڈیری فارمر ایسوسی ایشن حکیم الدین نے کہاکہ ڈیری فارمر کو لمپی اسکن سے اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا نقصان پروپیگنڈے کے ذریعے سے کیا گیا ہے ، کوئی بھی بیماری ہو یہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے دودھ میں شفا رکھی ہے ، کراچی میں 95فیصد بھینسیں ہیں اور 5فیصد گائے ہیں اور ان گائے میں بھی چند گائے بیمار تھیں جو مر گئیں ۔آل کراچی ڈیری فارمر ایسوسی ایشن کے اقبال ناگوری نے کہاکہ دودھ انڈسٹری میں فارمر ،ہول سیلر اور سب سے زیادہ ریٹیلر متاثر ہورہے ہیں ، ہماری التجا ہے کہ غلط فہمی کو دور کیا جائے ۔آل کراچی ملک ڈیری فارمر کے جنرل سیکرٹری ناگوری شوکت مختار نے کہاکہ ہم حافظ نعیم الرحمن کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے تمام سیکٹر ز کے لوگوں کو جمع کر کے بھینسوں کے دودھ اور گائے کے گوشت کے حوالے سے ایک اوپن سیشن منعقد کیا،دودھ اور گائے کے گوشت کا مسئلہ صرف کراچی کانہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے ،ڈیری فارمرز اور میٹ مرچنٹ انڈسٹری کے خلاف سازش کی جارہی ہے ،کنزیومر کے دلوں میں گائے کے گوشت اور دودھ کے حوالے سے شکو ک وشبہات پیدا کیے جارہے ہیں ۔ملک ہول سیلر ایسوسی ایشن کے محمد جنید نے کہاکہ 2 سال قبل سندھ فوڈ اتھارٹی نے دودھ کو انسانوں کے لیے مضر صحت قراردیا تھا لیکن دنیا کی تمام لیبارٹریز نے ثابت کردیا کہ دودھ کو اگر 100ڈگری میں ابالا جائے تو کوئی بھی بیکٹیریا باقی نہیں رہتا۔سیشن سے الخدمت ڈیزاسٹرمینجمنٹ سیل کے نگران قاضی صدر الدین ، پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری نجیب ایوبی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پرنائب امیر عبدالوہاب ، ڈپٹی سیکرٹری راشدقریشی ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے