English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

الیکشن کمیشن کے حکم پر عملدرآمد روکنے کی وزیراعظم کی درخواست مسترد

القمر

اسلام آباد (صباح نیوز/ آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکم یا نوٹس پر عمل درآمد روکنے کی وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر اسد عمرکی درخواست مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان، اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان، کابینہ ڈویژن اوردیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے28 مارچ کو جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔ جبکہ جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ حکومت نے آرڈیننس فیکٹری کھول رکھی ہے جو کام پارلیمنٹ نے کرنا ہوتے ہیں‘ وہ کام حکومت آرڈیننس کے ذریعے کر رہی ہے‘ الیکشن کمیشن کے نوٹس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو الیکشن کمیشن میں پیش ہونا چاہیے تھا‘ اگر ہرکوئی آئینی اداروں کے اختیارات کو چیلنج کرنا شروع کردے گا تو پھر اس ملک کا کیا بنے گا۔ الیکشن کمیشن کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔ دوران سماعت وزیر اعظم کی جانب وکیل سینیٹر بیرسٹر سید علی ظفر پیش ہو ئے ۔ عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کیا آرڈیننس کے ذریعہ آئین کے تحت دیے گئے اختیارات کو ختم کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن صرف کوڈ آف کنڈکٹ نہیں بلکہ آرٹیکل218 کے تحت آرڈر کر رہا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے وکیل صفائی سید علی ظفر سے استفسار کیا کہ کیا ایمرجنسی تھی کہ آپ کو آرڈیننس لانا پڑا؟ اپنے دلائل میں بیرسٹر سید علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے قانون کو رد کرنے والے حکم کو معطل کیا جائے یا کم از کم نوٹس پر مزید کارروائی روکی جائے۔ جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ عمران خان کمیشن کے سامنے کیوں نہیں جاتے؟ بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ آئین الیکشن کمیشن کو قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، ضابطہ اخلاق قانون کی شقوں پر حاوی نہیں۔ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کی شق 218 کے تحت حکم جاری کرتے ہوئے حکومتی قانون میں عوامی عہدہ رکھنے والوں کو دی گئی اجازت کو رد کر دیا۔ اس پر جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ کیا کمیشن آئین کے تحت ضابطہ اخلاق جاری نہیں کرتا؟ کیا آزادانہ الیکشن کرانے کے آئینی مینڈیٹ میں ضابطہ اخلاق شامل نہیں؟ ۔ وکیل بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کا کوڈ آف کنڈکٹ قانون سے بالا نہیں ہو سکتا‘ کوڈ آف کنڈکٹ کی بنیاد پر کسی قانون کو ہی رد نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے سماعت 28مارچ تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے