English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 28

القمر

روس کے یوکرین پر حملہ کرنے کے اقدام نے بین الاقوامی نظام کو الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا ہے ، بحران کے آغاز سے ہی یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ  نہ ہونے کا ذکر کرنے والے  پوتن نے دونباس کے علاقے میں علیحدگی پسند جمہوریہ کی آزادی کو تسلیم کرنے کے فوراً بعد یوکرین پر ایک جامع حملے کا حکم دیا۔ جنگ تاحال  چار اہم علاقوں پر مرکوز ہے۔ پہلا خطہ یوکرین کے دارالحکومت کیف پر مشتمل ہے۔ 15 دن تک جاری رہنے والے مسلسل حملوں کے باوجود روسی فوجی کیف پر قبضہ نہیں کر سکے۔ دوسرا خطہ خارکوف شہر اور اس کے آس پاس کے رہائشی علاقوں پر مشتمل ہے۔

وہ خطہ، جہاں سب سے زیادہ پرتشدد تنازعات ہوئے، ابھی تک مکمل طور پر روسیوں کے کنٹرول میں نہیں تھا۔ تیسرا خطہ دونباس کا علاقہ ہے جہاں سب سے پہلے آپریشن شروع ہوئے۔ یہاں روس کا مقصد بندرگاہی شہر میراپول پر قبضہ کرنا ہے۔ اس نے فی الحال شہر کا محاصرہ کر لیا، لیکن شہر پر مکمل کنٹرول نہ کر سکا۔ آخری خطہ کریمین لائن ہے، جہاں حملے مرتکز ہیں۔ اس مقام پر ایسا لگتا ہے کہ روسیوں نے اودیسا شہر کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کا مقصد اودیسا کو کنٹرول میں لینا اور بحیرہ اسود سے یوکرین کا رابطہ منقطع کرنا ہے۔ جنگ کے 16ویں دن روسیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا،  دوسری طرف، جنگ ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں یہ ہرفریق کے حق میں ہو سکتی ہے۔

سیتا  سیکیورٹی تحقیقاتی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل  طاش کا مندرجہ بالا موضوع پر  وسیع تجزیہ۔۔

ترکی نے یوکرین کے بحران کے آغاز سے ہی ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ شروع میں اس کا مقصد بحران کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا تھا۔ اس موقع پر اس نے دونوں فریقین سے ٹیلی فون پر روابط شروع کیے ۔  انقرہ شروع سے ہی اس بات سے واقف تھا کہ یوکرین میں جنگ کا اس پر کیا اثر پڑے گا۔ تاہم وہ جنگ کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کا موجودہ ہدف جنگ کو ختم کرنا اور اسے مزید طوالت اور گہرائی سے  بچانا  ہے۔ مغرب اور روس کے درمیان کشیدگی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ جب کہ مغرب  کی روس کے خلاف سخت پابندیاں ہر گزرتے بڑھتے ہوئے جاری ہیں، وہ یوکرین کے لیے اپنی فوجی امداد میں روز بروز اضافہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب انقرہ اب بھی سفارتی حل پر مصر  ہے۔

اسی موڑ پر، جنگ کے 15ویں دن، یوکرین اور روس کے درمیان پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات ترکی کی ثالثی میں انطالیہ ڈپلومیٹک فورم میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران دیکھا گیا کہ روسی فریق کافی تناؤ کا شکار تھا۔ روسی وزیر خارجہ لاوروف کو پریس کانفرنس میں اہم سوالات کے جوابات دینے میں مشکل پیش آئی۔ یوکرین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ روس نے ناقابل قبول شرائط رکھی ہیں۔فی الحال  انطالیہ سربراہی اجلاس سے کچھ نہیں نکلا، لیکن اس سے ترکی کی سفارت کاری کو روکا نہیں جا سکا۔ کیونکہ جنگ کے گہرے ہونے کا مطلب سرد جنگ کے بعد بحیرہ اسود میں جمود کا بگڑنا ہوگا اور اس سے ترکی اور روس کے تعلقات پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ دوسری جانب اگر پابندیاں مزید بڑھیں تو ترکی کو اس متوازن پوزیشن کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے وہ جنگ کو روکنے اور جلد از جلد سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

یوکرین کی جنگ نے اس ہنگامہ خیز دور میں شدت پیدا کر دی ہے جس سے ترکی علاقائی سطح پر گزر رہا ہے۔ اس جنگ کا مطلب انقرہ کے لیے شام کے بحران سے زیادہ گہرا جغرافیائی سیاسی وقفہ ہے۔ بحیرہ اسود ترکی کی سلامتی کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ ترکی، جو مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات اور روس کے ساتھ تعلقات دونوں کی حفاظت کرنا چاہتا ہے، یوکرین کے ساتھ اپنے گہرے تزویراتی تعلقات کے ٹوٹنے سے بھی پریشان ہے۔

دوسری طرف اس بحران سے روس کی جیت انقرہ کی روس کے ساتھ دشمنی کو مزید گہرا کر سکتی ہے اور تعلقات میں سکون کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ اس وجہ سے، یوکرین کی جنگ انقرہ کو حال ہی میں درپیش سب سے اہم چیلنج ہے۔ یہ چیلنج ترکی کی خارجہ پالیسی میں گزشتہ دہائی کے مقابلے میں ایک جامع تبدیلی لا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے