صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ 1915 چناق قلعے پُل کے ساتھ ترکی وسطی چوڑائی کے اعتبار سے دنیا کے طویل ترین پُل کا مالک بن گیا ہے۔
1915 چناق قلعے پُل اور مال قارا۔ چناق قلعے شاہراہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرنے والے صدر ایردوان نے اس پل کی ہر تیکنیکی خصوصیت مختلف مفہوم کی مالک ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ پل کے نام کے آغاز میں 1915 پہلی جنگ عظیم کی سب سے خونریز اور مثالی جدوجہد چناق قلعے میں بحری فتح کی عکاسی کرتا ہے، 318 میٹر اونچائی کا ٹاور 18 مارچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کی لمبائی 2023 میٹر ہے، تو یہ 2023 کی نشانی ہے جو کہ ہماری جمہوریہ کے قیام کی صد سالہ سالگرہ اور اس تاریخ سے منسلک ہمارے عظیم مقاصد کا عکاس بھی ہے ۔”
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی نے وسطی چوڑائی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے طویل پلوں والے جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اس میدان میں اب پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جناب ایردوان نے یاد دہانی کرائی کہ اس خصوصیت کے حامل دنیا کے 10 میں سے 3 پل ترکی میں ہیں۔
صدر نے کہا کہ اس سرمایہ کاری سے ترکی کو صرف وقت، ایندھن کی کھپت اور کاربن کے اخراج میں 415 ملین یورو سالانہ کمائی کا فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ ہماری معیشت میں 5.3 ملین یورو، ایک لاکھ 18 ہزار افراد کو روزگار اور 2.4 بلین یورو قومی آمدنی کے ساتھ اپنا حصہ ڈالے گا۔
ایردوان نے مزید بتایا کہ نجی۔ سرکاری تعاون ماڈل کا حامل یہ پل بر اعظم یورپ میں تیسرے اور دنیا بھر میں تیرہویں نمبر ہے۔
افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے والے جنوبی کوریا کے وزیر اعظم کم بو کیوم نے اپنی تقریر میں کہا کہ 1915 چناق قلعے پل مشرق اور مغرب کے درمیان امن اور خوشحالی کے دور کا آغاز کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ پل بین الاقوامی لاجسٹک خدمات کے لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔”
