چاہتا ہوں کہ عوام 27 مارچ کے جلسے میں تمام ریکارڈز توڑ ڈالیں، وزیراعظم
مارچ 20, 2022
القمر
وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر اعلان کردہ جلسے میں عوام کو بھرپور شرکت کی ترغیب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلسے میں عوام کی ریکارڈ توڑ شرکت چاہتے ہیں۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ارضِ پاک پاکستان کی روح کےتحفظ کی لڑائی میں عوام کی شرکت کےپہلےتمام ریکارڈز توڑ ڈالے جائیں‘۔
ساتھ ہی انہوں نے ’سیاسی مافیاز کی جانب سے اپنی لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لیے سیاستدانوں کے ضمیر کی خریداری‘ کی بھی مذمت کی۔
اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے جلسے کا لوگو بھی شیئر کیا جس کے مطابق جلسے کی تھیم ’امر بالمعروف‘ رکھی گئی ہے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد سیاسی ہنگامہ خیزی جاری ہے۔
چند روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ڈی چوک پر 10 لاکھ افراد اکٹھے ہوں گے اور تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں اراکین اسمبلی کو انہی کے درمیان سے گزر کر ووٹ ڈالنے جانا اور پھر واپس آنا پڑےگا۔
بعدازں اپوزیشن کی جانب سے بھی دارالحکومت میں 25 مارچ سے لانگ مارچ اورڈی چوک پر ہی 27 مارچ کو جلسے کا اعلان کیا گیا تھا۔
مذکورہ صورتحال میں اپوزیشن اور پی ٹی آئی کارکنان کے تصادم کے خطرے کے پیشِ نظر سینیئر سیاست دان چوہدری شجاعت حسین نے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت کو ڈی چوک میں اپنے جلسے منسوخ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے حالات خطرناک محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
دوسری جانب سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ڈی چوک پر جلسے کے اعلان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
جس پر عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست نمٹادی تھی کہ امن عامہ کو برقرار رکھنا اور آئین کے آرٹیکل 16 کے تحت ریگولیشن کے تناظر میں معقول پابندیاں عائد کرنا ایگزیکٹو اتھارٹیز یعنی وزیر داخلہ، سیکریٹری داخلہ اور اسلام آباد کے چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کا خصوصی دائرہ کار ہے۔
ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس بی سی اے) نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان متوقع تصادم کو روکنے کے لیے عدالت عظمیٰ میں آئینی درخواست دائر کردی تھی۔
سپریم کورٹ بار کونسل کی درخواست پر گزشتہ روز سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے چار پارلیمانی جماعتوں تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کو نوٹسز جاری کردیے تھے۔