English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کووڈ -19کےنتیجے میں دماغی تبدیلی کاکیا مطلب ہے؟ شفقنا خصوصی

القمر
 دوسرے مصنفین کی طرح میں بھی اپنے وقت کا بڑا حصہ لفظوں کی کھوج میں خرچ کرتی ہوں۔ اور جب معاملہ حد سے پیچیدہ اور پرا سرار دماغ کا ہو تو مجھے ایسے الفاظ کی ضرورت پڑتی ہے جو باریک نفاستوں اور غیر یقینی صورت حال کو گرفت میں لا سکیں۔ درست  الفاظ مشکل  سوالات  کا سامنا کرتے ہیں اور ان کا  مقابلہ کرتے ہیں، وہ سوالات جو کہ اس بات کے متعلق ہوتے ہیں کہ نئی سائینسی دریافتوں کا مطلب کیا ہے اور پھر اتنا ہی اہم سوال  یہ ہے کہ ان کی ضرورت کیا ہے ۔
کووڈ -19 اور دماغ کے بارے نئی ریسرچ کی وجہ  سے ،درست الفاظ  کی کھوج میرے دماغ پر سوار ہے ۔ دماغی سکیننگ (Brain Scanning) کے مطالعے کے ایک حصےکے طور پرمحققین کو  معلوم ہوا کہ سارس-کووڈ -2 ایسا وائرس جو کووڈ-19 کی وجہ بنتاہے ، کی انفکشن کا  تعلق ‘ کم خاکستری مادے’ (Less Grey Matter)سے ہے ۔ گرے میٹر کا ہر ٹشو،دماغی خلیوں (Brain Cells)کے اجسا م  پر مشتمل ہوتا ہے۔’ نیچر میں سات مارچ کو شائع ہونے والے نتائج  ،کووڈ-19  کے بارے میں ان  شہ سرخیوں کا باعث بنے جن میں بتایا گیا کہ وبا کی وجہ سے دماغ کو نقصان پہنچتاہے اور یہ سکڑ جاتا ہے۔ اور پھر ان خبروں نے، اپنے بدلے میں، سوشل میڈیا پر انتباہ کرنے والی پوسٹس  کو جنم دیا جس میں یہ وارننگ بھی شامل کہ اس کی وجہ سے  دماغی کی عضوی و فعلی خرابی واقع ہوتی ہےاوردماغ  کا خاتمہ جلد شروع ہو جاتاہے۔
ایک ایسے شخص کے طور پر جو ایک عشرے سے دماغی تحقیق پر لکھ رہا ہو ، میں کہہ سکتی ہوں وارننگ کے لیے جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ میں کبھی نہ کرتی ۔ یہ پہلا مطالعہ ہے جو سارس-کووڈ –2 سے پہلے اوراس کے بعد ہونے والی دماغ کی ساختیاتی تبدیلیوں پر غور کرتاہے۔ اور یہ ایک باریک بین مطالعہ ہے۔ یہ’ دماغی شبیہ سازی (Brain imaging)کے محققین کےایک گروپ نے کیا جو اس طرح کی تحقیق کافی عرصے سے کر رہے ہیں۔ ‘یونائٹڈ کنگڈم بائیو بینک پروجیکٹ’ کے ایک حصے کے طور پر 785 شرکا کو  ‘ ایم آر آئی ‘ ٹیسٹ  سے گزارا گیا۔ ان میں  سے چار سو ایک وہ تھے جنھیں کووڈ-19 ہوا تھا اور تین سو چوراسی کرونا کی وبا سے پاک تھے۔ سکین سے پہلے اور بعد کے نتائج کا آپس میں موازنہ کیا گیا ، جس کے نتیجے میں محققین ،ان لوگوں میں ہونے والی تبدیلی جنھیں کرونا ہوا تھا،  اور ان لوگوں میں ہونے والی  تبدیلی جو انفکشن سے محفوظ رہے تھے کے درمیان فرق کو سمجھ سکتے تھے ۔
میں اس پر بہت دیر تک   گفتگو جاری رکھ سکتی  ہوں ، دماغ میں تبدیل ہونے والی چیزوں کی ایک لمبی فہرست  ہے ، جیساکہ ‘ نئی چیزوں کی آموزش، سونے کا عمل اور سمارٹ فون کا استعمال، لندن کی گلیوں کو سمجھنا ، شعبدہ بازی اورغوروفکر  کرنا وغیرہ سب دماغ کی ساخت کوتبدیل کرتے ہیں ۔ضروری طور پر، ہماری زندگی کے واقعات منعکس ہوتے ہیں  ہمارے  مستقلا” بدلتے ہوئے دماغ کے حجم ، شباہت اور رویے میں۔” دماغ متحرک ہے،” یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ، سانتا باربرا کی ایملی جیکب کہتی ہیں ، ” کم ہونے کاضروری  مطلب برا نہں ہے ، اور نہ ہی زیادہ ہونے کا مطلب بہتر ہونا ہے۔ "
مثال کے طور پر، جیکب اور اس کے ساتھیوں  نے یہ معلوم کیا کہ  دماغ  کا ایریا  دن بھر کی سرگرمیوں کے دوران بڑھتا گھٹتا رہتا ہے،اوریہ تبدیلیاں  حیض کے چکر کے دوران بھی ہوتی ہیں  جو ہارمون لیول کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلی   ‘ ہپوکیمپس ‘ (Hippocampus)   میں پائی گئیں جودماغ کا وہ حصہ ہےجوسیکھنے ، یاد رکھنے اور اوراس جیسی دیگر سرگرمیوں سے متعلق ہے ۔ اس سے یہ” مفروضہ غلط ثابت ہوتاہے کہ دماغ ساکن ہے”، جیکب کہتی ہیں۔” اس کے بجائے ہم تبدیلیوں کا مدوجزر دیکھتے ہیں۔”
2016 میں میں نےایک ایسے تحقیقی کام پرلکھا جو دوران حمل دماغ کے مادے ‘ گرے میٹر’ کی تخفیف کی وضاحت کرتاہے۔ دوران حمل دماغ کی تبدیلیوں کو اس کا سکڑنا یا اسے نقصان پہنچنا کہا جا سکتاہے  ؟یا اگر اس پر مزید روشنی ڈالی جائے تو اسے دماغی  بلوغت یا  دماغ کی تخلیق کہا جاسکتاہے ؟اس  مطالعے کی شریک مصنفہ جو  نیدر لینڈ  کی’ لائیڈن  یونیورسٹی ‘میں نیوروسائنسدان ہیں ،نے مجھے بتایا کہ کہ اس کےنزدیک یہ عمل دماغی بلوغت  کے دوسرے مرحلے جیساہے اور اس کی مشابہت انسان  کی  بالغ عمری کے مرحلے کے دوران ہونے والی دماغ کی ترقی سے دی جا سکتی ہے۔
تو پھر کون سی صورت حال ، کووڈ-19 کے نتائج کی بہتر وضاحت  کرتی ہے ؟غالبا” ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ وائرل انفکشن اچھی چیز نہیں ۔ لیکن کیا یہ دماغ کے لیے بری ہےاور اگر ہے تو کیسے ؟اس کا جواب ، ہو سکتا ہے کہ پریشان کن ہو ، یہ ہے کہ ،’ ہمیں ابھی تک اس کا علم نہیں ہے۔’” ہم دماغ میں واقع ہونے والی تبدیلیوں  کو دیکھ کر کافی پریشان تھے جو حتٰی کہ ایک معتدل انفکشن کے دوران بھی وقوع پزیر ہوتی ہیں” یہ بات یوینورسٹی آف آکسفورڈ کے ، کلینیکل  نیوروسائنسزکے  شعبے میں کام کرنے والی ‘ گوئینیل ڈو’ (gwenaelle Douad) نے بتائی ۔” پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ  نقصانات باقی  رہتے ہیں اور کووڈ کے شکار لوگوں کو مستقبل میں بھی  دماغی بیماریوں کے لیے زیادہ غیر محفوظ بناتے ہیں ۔”
لیکن یہ تبدیلیاں شاید لمبے عرصے تک باقی نہ رہیں، گوئینیل  کا  کہنا ہے ۔ دماغ بذات خود ایک حد تک انہیں شناخت کر لیتا ہے اور ا ن کی درستگی کر سکتا ہے، حتٰی کہ بوڑھے لوگوں میں بھی یہ عمل ہوتا ہے۔ایک دوسری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ بند ناک سے بھی دماغی تبدیلیاں  ہوتی ہیں جن میں سے کچھ حالیہ دماغی سکیننگ میں سامنے آنے والی تبدیلیوں کے مشابہ ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تبدیلیاں ، حس شامہ کے واپس آنے پر پلٹ جاتی ہوں۔جن لوگوں کی ابھی برین سکیننگ کی گئی ہے ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ان کی دوبارہ سکیننگ سے تبدیلی کے مستقل یا  عارضی ہونے کے سوال کا جواب مل جائے۔” ہم ابھی اس بات کے دوران امتیاز نہیں کر سکتے کہ کون سی تبدیلی عمومی ہے اور کون سی نہیں۔” جیکب کہتی ہیں۔ جب تک کہ سائنسدان دماغ کو بارے مزید واضح نہیں کر لیتے کون سی دماغی تبدلیاں عمومی ہیں، قابل واپسی ہیں یا غیر نتیجہ خیز ہیں، ہم ممکنہ طور پر نہیں جان سکتے کہ کیا چیز پریشان کن ہے۔ لہٰذ ا،  اب تک انتخاب کیے گئے درست الفاظ بھی دھوکہ دے سکتے ہیں۔
پیر، 21 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کووڈ -19کےنتیجے میں دماغی تبدیلی کاکیا مطلب ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے