چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ دنیا کی بڑی ترین 20 اقتصادی طاقتوں کے گروپ جی۔20 کا ہر رکن مساوی حیثیت کا حامل ہے، کوئی بھی اس گروپ کو تقسیم نہیں کر سکتا۔
چین وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک انڈونیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور میانمار کے وزرائے خارجہ کا 31 مارچ سے 3 اپریل پر محیط دورہ چین شروع ہو گیا ہے ۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ نے صوبہ آنہوئی کے شہر تونشی میں انڈونیشیا کے وزیر خارجہ ریٹنو مارسودی کے ساتھ ملاقات کی۔
وانگ نے کہا ہے کہ مذاکرات میں دونوں فریقین نے جی۔20 کے دائرہ کار میں باہمی تعاون اور ربط و ضبط میں اضافے کے موضوع پر اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کی میزبانی میں 15 تا 16 اکتوبر کو بالی میں متوقع جی۔20 سربراہی اجلاس کی کامیابی کے لئے ہم ضروری تعاون فراہم کریں گے۔
وانگ نے،جی۔20 کے میکرو اکانومی سیاست پر توجہ مرکوز کرنے اور اسے سیاست کے ہاتھ میں کھلونا بنانے سے پرہیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ "تمام رکن ممالک مساوی حیثیت کے حامل ہیں اور کسی کو جی۔20 کو تقسیم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے”۔
وزیر خارجہ وانگ نے کہا ہے کہ کریمیا کے الحاق کے بعد جی ایٹ سے روس کی بے دخلی کی طرح یوکرین جنگ کی وجہ سے جی۔20 سے بھی بے دخلی جیسا کوئی اقدام کیا گیا تو بیجنگ اس کی مخالفت کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ دنیا کی بڑی ترین 8 اقتصادیات کے گروپ جی ایٹ نے 2014 میں کریمیا الحاق کے بعد روس کو گروپ سے خارج کر دیا اور اس کے بعد سے گروپ کو جی سیون کے نام سے پکارا جانے لگا تھا۔
