English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا عمران خان نے اپنے اقتدار کے لیے خارجہ پالیسی کو داؤ پر لگا دیا ہے؟

القمر
سابق پاکستانی سفارتکار عبدالباسط کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو بیانیہ بنانےکی کوشش کر رہے ہیں اس تعلقات خراب ہونے کا امکان رہتا ہے۔ انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ غیر ملکی خط کا معاملہ قومی سلامتی کمیٹی میں اٹھانا اچھی بات ہے، سلامتی کمیٹی نے اس پر اعلامیہ جاری کیا۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے اور وزیراعظم کی تقریر میں مطابقت ہونی چاہیے تھی لیکن ان کی تقریر سیاسی تقریر تھی۔سابق سفیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم کو معلوم ہے کہ کیا ہونے جا رہا ہے اس لیے ان کی نظریں الیکشن پر ہیں ۔ہم ایک اہلکار کی بات کر رہے ہیں، ملک کی بات نہیں کر رہے، اہلکار سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔
اسی طرح سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہےکہ کبھی کسی اور حکومت نے سفارت کاری کے معاملے پر اتنی بڑی سیاست نہیں کھیلی جتنی وزیراعظم عمران خان کھیل رہے ہیں۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ کسی ملک کو پیغام دینے کے لیے ہر قسم کی سفارتی زبان استعمال کی جاتی ہے، کبھی کبھی بہت سخت زبان بھی استعمال ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو کسی چیز پر اعتراض ہوتا بھی ہے تو اسے سفارتی ذرائع سے اٹھایا جاتا ہے، اسے عوامی جلسوں میں نہیں دہرایا جاتا۔ سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ آج سے 30 سال بعد عمران خان کا نام کوئی یاد نہیں رکھے گا، یاد رکھا جائے گا پاکستان میں ایک وزیراعظم نے اپنی حکومت بچانےکے لیے امریکا سے تعلقات کو داؤ پر لگایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ دوسروں کو نقصان پہنچاتے پہنچاتے پاکستان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
 گزشتہ روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جس مراسلہ کی بنیاد پر قومی غیرت کی عمارت استوار کرنے کی کوشش کی ہے، وہ ایک معمول کی سفارتی کارروائی ہے جسے وزارت خارجہ میں بین الملکی تعلقات کے جائزہ کے دوران استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مختلف دارالحکومتوں میں پائی جانے والی تشویش دور کی جا سکے اور بہتر طریقے سے پاکستان کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ کسی ملک کے وزیر اعظم نے کبھی اپنے ہی سفیر کے اندازوں پر مبنی کسی سفارتی مراسلہ کو ’بیرونی سازش‘ کا ثبوت قرار دینے کی کوشش نہیں کی ہوگی۔ تاہم قومی اسمبلی میں اکثریت کا اعتماد کھو دینے اور اپنی ہی پارٹی میں وسیع توڑ پھوڑ کا سامنا کرنے بعد عمران خان چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح پاکستانی عوام کو وہ یہ کہہ کر گمراہ کرسکیں کہ ان کے سوا کوئی اس ملک پر حکمرانی کا اہل نہیں ہے۔
عمران خان نے گزشتہ تین ہفتے کے دوران اپنا اقتدار بچانے کے لئے دھونس، دھمکی، کاسہ لیسی، منت سماجت اور خوشامد کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے منہ میاں مٹھو کے مصداق خود کو غیرت مند اور پاکستانی مفاد کا اکلوتا رکھوالا قرار دینا چاہتے ہیں۔ عمران خان کے نظریہ کے مطابق اگر اس ملک میں ان کے علاوہ سب دھوکے باز اور وطن فروش ہیں تو پھر سوچنا چاہیے کہ ایسا ملک کیسے اپنے ہونے کا جواز فراہم کر سکتا ہے؟ اپنا اقتدار بچانے اور مستقبل کے سیاسی مشن کے لئے ایک نیا ’نعرہ‘ ایجاد کرنے کے لئے بطور وزیر اعظم قوم سے خطاب میں عمران خان نے جو بے سر و پا باتیں عوام کو ذہن نشین کروانے کی کوشش کی ہے، وہ پوری پاکستانی قوم کے منہ پر کالک پوتنے کے مترادف ہے۔ اس طرز عمل پر عمران خان کو خود اپنے آپ سے گھن محسوس کرنی چاہیے۔ آج کی تقریر نے اس غیرت اور خود داری کے کفن میں آخری کیل ٹھونک دی ہے جسے عمران خان اپنا طرہ امتیاز قرار دیتے ہیں۔
عوام کو سچ بتانے کے دعوے دار عمران خان نے قوم سے خطاب میں غیر ملکی سازش کی جزئیات تو تفصیل سے بیان کیں اور ان سے خود ہی ایک سازشی جال بن کر سادہ لوح عام پاکستانی کو اس میں پھانسنے کی کوشش تو ضرور کی لیکن انہیں دیانت داری سے یہ سچ بیان کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ گزشتہ تین روز کے دوران بار بار فوجی قیادت سے کس ’خفیہ قومی مشن‘ کی تکمیل کے لئے ملاقاتیں کرتے رہے تھے۔ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ وہ قوم سے جو خطاب بدھ کو کرنے والے تھے، اسے جمعرات تک کیوں مؤخر کیا گیا۔ اس دوران وہ کون سا فارمولا تھا جس کے تحت عمران خان نے اپوزیشن کو یہ پیغام بھجوایا تھا کہ انہیں ’فیس سیونگ‘ کا موقع دیا جائے اور اپوزیشن نے جب انہیں ’این آر او‘ دینے سے انکار کر دیا تو سازشی تھیوری کو مرچ مصالحہ لگا کر بیچنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد وہ عوام کو ایک نئے نعرے کے پیچھے لگا کر اس ملک میں مسلسل انتشار اور بے چینی کی کیفیت پیدا کرسکیں۔
ہفتہ، 2 اپریل 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا عمران خان نے اپنے اقتدار کے لیے خارجہ پالیسی کو داؤ پر لگا دیا ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے