English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا القاعدہ کا سربراہ الظواہری زندہ ہے؟؟

القمر

القاعدہ کا سربراہ ایمن الظواہری ابھی تک زندہ ہے ، اس کی ایک ایسی نایاب ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں بھارتی مسلمان لڑکی کی جانب سے جحاب پر پابندی سے انکار پر اس کی تعریف کی گئی ہے۔ مہینوں بعد بظاہر یہ پہلا ثبوت ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے۔

ایمن الظواہری کی موت کی افواہیں مسلسل گردش کرتی رہی ہیں لیکن منگل کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں جس کا ترجمہ سائٹ انیٹلی جنس گروپ نے کیا ہے ، القاعدہ کےسربراہ نے مسکان خان کی، جنھوں نے بھارت کی جنوب مغربی ریاست کرناٹک کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی سے انکار کیا تھا، تعریف کررہے ہیں ۔

جب ہندو بنیاد پرست طلبا نے اسلامی اسکارف پر اس کا مذاق اڑایا تو اس لڑکی نے نعرہ تکبر بلند کیا تھا۔ مارچ میں بھارت کی ریاست کرناٹک کی عدالت نے اس پر پابندی کو برقرار رکھا جس کی وجہ سے بھارت اور دیگر مقامات پر مسلم گروپوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔

الظواہری کی پچھلی ویڈیو میں جو گزشتہ سال نائین الیون کی برسی کے موقع پر گردش کررہی تھی، طالبان کے اگست کے اقتدار میں سنبھالنے کا حوالہ نہیں تھا۔ اس میں یکم جنوری 2021 کے حملے کا ذکر کیا گیا تھا جس میں شمالی شام کے شہر رقہ کےکنارے روسی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔



منگل کی ویڈیو سے الظواہری کے مقام کے بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں ملا۔ تاہم یہ ویڈیو افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کا شبہ پیدا کرتی ہے اور حکمراں طالبان کے دہشت گرد گروہوں سے لڑنے اور افغانستان میں انہیں جگہ نہ دینے کے عزم پر تشویش کو اجاگر کرتی ہے۔

الظواہری نے 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کی قیادت سنبھالی تھی، اسامہ بن لادن کو امریکی نیوی سیلز نے رات کے وقت پاکستان کے اندر ، جہاں وہ چھپا ہوا تھا، ایک چھاپے کے دوران ہلاک کر دیا ۔



الظواہری کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ پاکستان کی سرحد پر افغانستان کے شمال مغربی کنٹر اور بدخشاں صوبوں میں کہیں موجود ہو سکتاہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقہ ناہموار پہاڑی سلسلوں سے جڑا ہوا ہے جو اس خطے میں متعدد دہشت گرد گروہوں کا آخری مورچہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کےایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر رانا کہتے ہیں کہ الظواہری کے بارے میں یہ بھی افواہ تھی کہ وہ پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں ہے، جہاں افغانستان کی بیس سالہ جنگ کے دوران طالبان کے بہت سے رہنما طویل عرصہ تک اپنے گھروں میں بند رہے ۔رانا نے کہا کہ ان کی کراچی میں موت کی افواہ بھی تھی ، انھوں نے مزید کہا کہ اس کے مقام سے قطع نظر کہ وہ کہا ں ہے ،الظواہری کی ویڈیو عالمی برادری کے ساتھ طالبان کے لیے بھی درد سر بنے گی۔

(خبر کا مواد اے پی سے لیا گیا)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے