عدن (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن کے صدر عبد اربہ منصور ہادی نے استعفا دے کر اپنے اختیارات صدارتی کونسل کو منتقل کر دیے ۔ انہوں نے نائب صدر علی محسن احمر کو بھی ان کی ذمے داریوں سے فارغ کر دیا ہے۔ ٹی وی پر اپنے خطاب میں صدر منصور ہادی نے کہا کہ نیا ادارہ ملک میں برسوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے حوثی باغیوں کے ساتھ مستقل جنگ بندی اور سیاسی تصفیہ کے لیے مذاکرات کی قیادت کرے گا۔ نئی صدارتی کونسل اپنی عبوری مدت میں ریاست کے سیاسی ، عسکری اور سیکورٹی انتظامی امور سنبھالے گی۔ صدارتی کونسل 8 ارکان پر مشتمل ہے۔ اس کے سربراہ رشاد محمد العلیمی ہیں۔ کونسل کے دیگر ارکان میں سلطان العرادہ، طارق صالح، عبدالرحمن ابوزرعہ، عبداللہ العلیمی، عثمان مجلی، عیدروس الزبیدی اور فرج حسنی ہیں۔ صدارتی کونسل کی معاونت کے لیے 50 ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی جائے گی۔ کونسل کی مدت تنازع کے سیاسی حل اور یمن میں مکمل امن کے قیام پر پوری ہو گی۔ اس میں نئے آئین کے مطابق انتخابات کا انعقاد اور ملک میں نئے صدر کا تقرر بھی شامل ہے۔یاد رہے کہ یمن 2014 ء کے اواخر سے ہی سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان تباہ کن لڑائی سے دو چار ہے۔
