English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی کا اجلاس نماز مغرب اور افطار کیلئے ایک بار پھر ملتوی

القمر

سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق تحریک عدم اعتماد پر ہونے والے پارلیمان کے ایوانِ زیریں کا اجلاس نماز مغرب اور افطار کے لیے ساڑھے 7 بجے تک ایک بار پھر ملتوی کردیا گیا۔

یہ اہم اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا، جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول پیش کی گئی اور قومی ترانہ بجایا گیا۔

ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے قبل خاتون رکن قومی اسمبلی شازیہ ثوبیہ کی وفات پانے والی والدہ کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

تاہم دو گھنٹے کے طویل وقفے کے بعد جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اس کی صدارت امجد خان نیازی نے شروع کی تو دونوں جانب سے رہنماؤں نے طویل تقاریر کیں اور نماز عصر کے لیے 20 منٹ کا وقفہ کیا گیا۔

نماز عصر کے وقفے کے بعد اجلاس شروع نہیں ہوسکا اور اعلان کیا گیا کہ اب نماز مغرب اور افطار کے بعد ساڑھے 7 بجے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے متعلق اجلاس ایک مرتبہ پھر شروع ہوگا۔

اسپیکر توہین عدالت کا مرتکب ہور ہےہیں، بلاول بھٹوزرداری

بلاول بھٹوزرداری نے اسپیکر کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ اس وقت نہ صرف توہین عدالت کر رہے ہیں بلکہ آئین شکنی میں بھی ملوث ہور ہےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے 5 رکنی بینچ نے حکم سنایا اور اس کے مطابق اس آرڈر کے علاوہ کسی اور ایجنڈہ آئٹم کو نہیں اٹھا سکتے ہیں، آپ اور اس سے پہلے اسپیکر نے بھی ایسا کیا۔

انہوں نے کہا کہ 3 اپریل کو ایک وزیر نے صرف وزیراعظم پاکستان، صدر پاکستان اور ڈپٹی اسپیکر کو آئین شکنی میں پھنسا دیا تھا اور آج کی کوشش کی وجہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ اسپیکر اور آپ خود ان جرائم میں ملوث ہیں۔

اس موقع پر ڈپٹی چیئر نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ کے ڈومین میں مداخلت نہیں کر سکتا ہے، ایجنڈا اسپیکر، قومی اسمبلی اور حکومت کا ہوتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ توہین عدالت کرتے ہوئے نااہل ہوجائیں گے، یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی عدالت نے اسپیکر کی رولنگ کو اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سےپہلے ایک اسپیکر صاحبہ اسی کرسی پر بیٹھی تھی، انہوں نے ایک فیصلہ سنایا، از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کو مسترد کردیا گیا، ایک دفعہ پھر حکم آیا ہے، عدالت نے فیصلہ سنادیا ہے کہ آپ نے آج 3 اپریل کی کارروائی مکمل کرنی ہے اور ووٹنگ کروانی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کا کپتان بھاگ رہا ہے، بھاگتے بھاگتے توہین عدالت اور آئین شکنی کر رہا ہے، اگر آپ خود اس میں ملوث ہونا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے بہت پہلے وزیراعظم کو خبردار کیا تھا کہ جو صاحب (وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی) مجھے پہلے تقریر کر رہا تھا کہ اس سے بچ کے رہیں ورنہ وہ اس کو پھنسائے گا اور اسی نے اس کو پھنسایا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر عمل کرو اور ووٹنگ کروائیں، اگر آپ آج کے ایجنڈےپر نہیں آئے تو پوری اپوزیشن بھی یہاں سےنہیں ہٹے گی اور ہم اپنا آئینی حق حاصل کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج دفترخارجہ کو استعمال کرکے، جعلی کیبل استعمال کرکے آپ کو آئین شکنی اور توہین عدالت پر مجبور کر رہےہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ اکثریت اس طرف ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اکثریت کھو بیٹھے ہیں، بیرونی سازش ایجنڈے سے باہر ہے، اس پر بحث ہم 100 دن بھی کرسکتے ہیں، عدالت کا حکم مانیں۔

وزیرخارجہ کی تقریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی کہانی میں جھوٹ ہے، سب سے پہلا جھوٹ ہے کہ 7 مارچ کو یہ بات ہوئی اور 8 مارچ کو ہماری عدم اعتماد یہاں جمع ہوئی، امریکا اور پاکستان میں وقت کا فرق ہے، وہاں 7 مارچ ہے تو یہاں 8 مارچ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بقول اسی وقت جب ملاقات جاری تھی، اسی وقت ہم نے تحریک جمع کروائی، جو بھی عمران خان کو یہ مشورہ دے رہے ہیں، ان کو میں جانتا اور پہچانتا ہوں، وہ خان صاحب کے لیے اپنے لیے سوچ رہے ہیں اور خان صاحب کوپھنسائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلے سے ارادہ تھا کہ عمران خان وزیراعظم سلیکٹ نہیں رہتا ہے تو ہمارے اور ان کے درمیان اختلاف نہیں رہے گا لیکن کپتان جس طرح میدان سے بھاگا اور آج بھی موجود نہیں اور اپنا دفاع نہیں کرسکتا ہے۔

آئینی سیاسی اور جمہوری انداز میں مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، شاہ محمود

ایوان میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں اپنی جماعت کی طرف سے کہنا چاہتا ہوں کہ آئین میں عدم اعتماد کی تحریک کا حق موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ اس تحریک کو پیش کرنا اپوزیشن کا حق ہے اور اس کا دفاع کرنا میرا فرض ہے، ہم آئینی سیاسی اور جمہوری انداز میں مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آج ایک اور چیز ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں اور قوم کو گواہ بنانا چاہتا ہوں کہ آئین شکنی مطمع نظر تھا نہ ہوگا، آئین کا احترام ہم سب پر لازم ہے اور وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ وہ دل سے مایوس ہیں لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے پر سر تسلیم خرم کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ آئین شکنی سے بھری ہوئی ہے، میں حالیہ آئین شکنی کا حوالہ دینا چاہوں گا، قوم اس بات کی گواہ ہے کہ 12 اکتوبر 1999 میں آئین شکنی ہوئی، قوم اس بات کی گواہ ہے جب اعلیٰ عدلیہ کے سامنے جب وہ کیس گیا تو نہ صرف جسٹیفکیشن مانگی گئی بلکہ آئین میں ترمیم کی اجازت بھی دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن، بلاول بھٹو زرداری صاحب نے عدلیہ کے فیصلے سے قبل بیان دیا کہ کوئی نظریہ ضرورت کا فیصلہ ہم قبول نہیں کریں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں، میرا وزیر اعظم کہتا ہے کہ مایوس ہوں لیکن عدلیہ کا احترام کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اجلاس جاری رہے گا اور تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک کارروائی مکمل نہیں ہوجاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو ہونے والے اجلاس اور وزیر اعظم عمران خان کے اسمبلی توڑنے کی تجویز کا عدالت نے ازخود نوٹس لیا اور اسپیکر کی رولنگ کو مسترد کردیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ ہماری اپوزیشن پونے 4 سال سے کر رہی ہے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے، جس کے پیش نظر وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ عوام کے پاس چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ عوام پاکستان مستقبل کن ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے لیکن اپوزیشن عدلیہ میں کیوں گئی، اس کا ایک پس منظر ہے، یہاں جب ڈپٹی اسپیکر اجلاس کر رہے تھے اس میں آئینی کارروائی سے انکار نہیں کیا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ایک نئی صورتحال میرے سامنے آئی ہے جہاں ایک بیرونی سازش ہورہی ہے اور اس کی تحقیقات ہونا ضروری ہے، قومی سلامتی کمیٹی کا فورم ایک اعلیٰ ترین فورم ہے، اس میں مراسلے کی بازگشت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب قومی سلامتی کمیٹی نے اس مراسلے کو دیکھا تو اس حل پر پہنچی کہ یہ سنگین اور حساس مسئلہ ہے اور احکامات جاری کیے۔

انہوں نے کہا کہ پہلا یہ کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سلامتی کمیٹی نے دفتر خارجہ کو حکم دیا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن میں ڈیمارش کرو اور دفتر خارجہ یہی کرتا ہے، قومی سلامتی کمیٹی نے دوسرا فیصلہ یہ دیا کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے تاکہ وہ بات کی باریکی تک جائیں۔

شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران اپوزیشن بینچز سے آوازیں آنے لگیں اور شور شرابہ ہوا جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردیا۔

آج ہم یہاں ہیں کل نہیں ہوں گے، شاہ محمود

اجلاس میں 2 گھنٹے کے وقفے کے بعد انہوں نے اپنی تقریر دوبارہ شروع کی اور کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں ووٹنگ سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ کہا تھا کہ نئی صورتحال ہےجسے سامنے رکھتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کا ماحول پیدا کیا وفاداریاں بدلنے کی کوشش کی گئی، ضمیر فروشی کا بازار لگا، ٹکٹوں کے وعدے، سنہری خواب دکھائے گئے، سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کیا یہ کوشش آئینی تھی؟

انہوں نے کہا کہ وہ قوتیں جنہوں نے آئین کے تحفظ کی قسم اٹھائی ہے وہ نہیں دیکھ رہیں کہ بازا لگا ہے، بولیاں لگ رہی ہیں، اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد سے قبل بھی پی ٹی آئی اس بات کا تقاضہ کرچکی ہے ہمیں روش کے خلاف رکاوٹ ڈالنی ہوگی، اس سے قبل سینیٹ میں جو ہوا لیکن اس کے خلاف درخواست آج بھی زیر التوا پڑی ہے، اگر ہم نے اس چیز کے آگے بند باندھا ہوتا تو آج اس چیز سے دوچار نہیں ہوتے۔

بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہم یہاں ہیں، کل نہیں ہوں گے ہم سے بڑی بڑی ہستیاں یہاں سےبگزری ہیں، انسان فانی ہے، ایک لمحے کا مجھے پتا نہیں کہ اگلا سانس ہوگا یا نہیں، بڑے بڑے نامور لیڈر اس قوم نے پیدا کیے جو آج منوں مٹی تلے سورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیکن تاریخ گواہ ہوگی، حقائق کبھی چھپتے نہیں ہیں دبائے جاسکتے ہیں لیکن ایک وقت آئے گا کہ تاریخ انہیں بے نقاب کرے گی، جنہوں نے یہ سارا ناٹک رچایا انہیں بے نقاب کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مؤرخ کا قلم بڑا ظالم ہے کسی کو نہیں بخشتا، جس طرح اس نے چیزیں قلمبند کی ہیں وہ سامنے آجائیں گی۔

روس کے دورے کا فیصلہ مشاورت سے کیا گیا، شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اس بات کو ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ جب ماسکو کے دورے کا فیصلہ کیا گیا اس کا یوکرین کی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں تھا، 2 ماہ سے یہ سلسلہ جاری تھا بالکل آخر دعوت آئی اور وزیراعظم نے جانے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس دورے سے قبل مشاورت کی گئی، دیکھا گیا کہ اس کا کیا فائدہ ہوگا، اس کے پسِ پردہ پاکستان کی بہتری تھی، اس وقت یوکرین کی صورتحال سامنے نہیں آئی تھی اور فوجی چڑھائی نہیں ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ ہم نے مشاورت کے لیے سابقہ سیکریٹریز خارجہ، سفارتکاروں، دانشوروں اور میڈیا کو بلایا اور بات کی کہ جائیں تو کیا فائدہ کیا نقصان ہوگا پھر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ اس باہمی دورے کو جاری رکھنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چھوٹا صحیح ایک خودمختار ملک ہے، آپ شاید اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کر کے غلامی کا طوق قبول کرنا چاہتے ہوں، ہم نہیں چاہتے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے مشیر قومی سلامتی جیک سولیوین نے پاکستانی مشیر قومی سلامتی کو کال کر واضح طور پر کہا کہ دورے پر نہیں جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا جائے کہ کہاں ہوتا ہے کہ ایک خود مختار ملک کو اس کے باہمی دورے سے روکا جائے، کون سی خودمختار اور خوددار قوم یہ قبول کرتی ہے۔

شاہ محود قرییشی نے کہا کہ ساڑھے 3 سال یہ لوگ کہتے رہے کہ انتخابات کراؤ، اب عمران خان کہہ رہے ہیں کہ چلو عوام کے سامنے دیکھتے ہیں وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں، اپنا اپنا مؤقف پیش کریں گے، اسی کی جمہوریت کہتے ہیں، نوٹ، ووٹ اور کھوٹ کے درمیان فیصلہ عوام کرلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپیل کرتا ہوں کہ اس ملک کو آئینی بحران کی جانب نہ دھکیلیں، اس کا واحد حل تازہ انتخابات ہیں، آپ عوام کے سامنے جانے سے گھبرا کیوں رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو سیاسی بصیرت پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے 27 مارچ کے جلسے میں بھرپور شرکت کی، غداری کون کررہا ہے عوام سے یہ فیصلہ عوام ہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں آخر میں قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ آج آزمائش کا وقت ہے، ایک طبقہ پاکستان کے مفاد کو سودا کرنا چاہتا ہے، تمام سیاسی قوتیں ایک طرف ہیں اور تنہا عمران خان ایک طرف ہے، یہ بغض کا اتحاد ہے جن میں کچھ بھی یکساں نہیں ہیں، یہ تو ایک دوسرے کے پیٹ چاک کرنے کی بات کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب قوم کو دیکھنا ہے کہ ہم نے کس سمت جانا ہے اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہے، میرے سینے میں بہت راز ہیں ابھی نہ کھولیں، پاکستان کا ووٹر ایک اییک کو پہچان رہا ہے، ان شا اللہ میری جماعت اور میرا قائد پاکستان کے آئین، نظریے، جغرافیے اور مفادات کا تحفظ کریں گے، اقتدار آتا ہو تو آئے جاتا ہو تو جائے، پاکستان کے مفاد کا سودا نہیں کریں گے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ووٹنگ کرائی جائے، شہباز شریف

ایوان کی باقاعدہ کارروائی شروع ہونے کے بعد سب سے پہلے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تقریر کی۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ پرسوں پاکستان کی تاریخ کا تابناک دن تھا جب عدالت عظمیٰ نے آپ کے، وزیراعظم عمران خان اور ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی اقدام کو کالعدم قرار دیا اور نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر کے پاکستان کا مستقبل تابناک بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں اس کے لیے متحدہ اپوزیشن کی پوری قیادت اور قوم کو سلام پیش کرتا ہوں کہ ان کی جدوجہد کے نتیجے میں یہ دن دیکھنا نصیب ہوا۔

شہباز شریف نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ آج آپ سپریم کورٹ کے حکم کے تابع ایوان کی کارروائی چلائیں کیوں کہ آج یہ ایوان ایک نئی تاریخ رقم کرنے جارہا ہے اور آئینی اور قانونی طریقے سے ایک سیلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جو ماضی میں ہوگیا ہوگیا، آج آپ آئین و قانون اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے لیے کھڑے ہوجائیں اور صحیح معنوں میں اسپیکر کا کردار ادا کر کے تاریخ میں سنہرے حروف میں نام لکھوا لیں، اس موقع سے فائدہ اٹھا لیں سیلیکٹڈ وزیراعظم کی ڈکٹیشن پر نہ چلیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑا واضح ہے۔

اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے شہباز شریف کو کہا کہ میں نے سپریم کورٹ کا پورا فیصلہ پڑھا ہے اور میں من و عن اس کے مطابق اجلاس کی کارروائی کروں گا اور ہم چاہتے ہیں کہ اس میں بین الاقوامی سازش کے بارے میں بھی بات ہو۔

اس پر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اگر آپ پھر اس طرف آئیں گے تو آپ سپریم کورٹ کے فیصلے کی حکم عدولی کر رہے ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ کا حکم نامہ پڑھا اور یاد دہانی کرائی کہ آپ اس کے مطابق ایجنڈا آئٹم پر کارروائی کرنے کے پابند ہیں کسی اور پر کارروائی نہیں کرسکتے، اس لیے مہربانی کر کے ووٹنگ کرائی جائے۔

متحدہ اپوزیشن کا پارلیمانی اجلاس

اجلاس سے قبل ٹیلی ویژن فوٹیج میں دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات دکھائی دیے جبکہ متحدہ اپوزیشن کے پارلیمانی گروپ کا اجلاس بھی ہوا جس کی صدارت مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کی۔

اپوزیشن کو عدم اعتماد کے اقدام کے ذریعے وزیر اعظم کو بے دخل کرنے کے لیے 342 میں سے کم از کم 172 قانون سازوں کی حمایت درکار ہے۔

اس تاثر کے باوجود کہ اس نے ایوان زیریں میں اپنی اکثریت کھو دی ہے، حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اب بھی اس بات پر بضد تھی کہ وہ اپوزیشن کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑے گی اور اس نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان کے لیے معاملات کو اتنا ہی مشکل بنا دے گی، چاہے وہ ووٹنگ کے طریقہ کار میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہو یا اپوزیشن کے نامزد کردہ شہباز شریف کو نئے قائد ایوان کے طور پر منتخب کرنے سے روکنا ہو۔

یاد رہے کہ 3 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد بغیر ووٹنگ کرائے آئین و قانون کے منافی قرار دے کر مسترد کردی تھی۔

بعدازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر اسمبلی توڑ دی تھی۔

جس پر لیے گئے از خود نوٹس کا فیصلہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 5-0 کی اکثریت سے قاسم سوری کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف لائی گئی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی رولنگ اور صدر مملکت کے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔

ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے قومی اسمبلی کو بحال کرتے ہوئے اسپیکر کو ایوان زیریں کا اجلاس 9 اپریل بروز ہفتہ صبح ساڑھے 10 بجے تک بلانے اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ ووٹنگ والے دن کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں فوری نئے وزیر اعظم کا انتخاب ہوگا جبکہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو تو حکومت اپنے امور انجام دیتے رہے گی۔

اپوزیشن کا وزیراعظم پر عدم اعتماد

اپوزیشن نے گزشتہ ماہ 8 مارچ کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی اور ساتھ ہی اسمبلی کے اجلاس کی ریکوزیشن بھی دے دی گئی تھی۔

آئین کے تحت اسپیکر اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرانے کے 14 روز کے اندر اجلاس بلانے کا پابند ہے اور تحریک عدم اعتماد پارلیمان میں پیش کیے جانے کے بعد کم از کم 3 بعد اور 7 روز سے پہلے اس پر ووٹنگ ہونی ہوتی ہے چناچہ 22 مارچ تک اجلاس طلب کیا جانا تھا۔

تاہم اس دوران اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے انعقاد کے باعث ایوانِ زیریں کے ہال میں تزیئن و آرائش کا کام جاری تھا۔

چنانچہ اسپیکر نے 21 مارچ کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے 25 مارچ کو اجلاس طلب کیا جسے وفات پاجانے والے رکن قومی اسمبلی خیال زمان اور دیگر کے لیے فاتحہ خوانی کے فوری بعد ملتوی کردیا گیا تھا۔

جس کے بعد 28 مارچ کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے 161 اراکین کی حمایت سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔

منحرف اراکین اور سندھ ہاؤس

قبل ازیں تحریک پیش کیے جانے سے قبل ہی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کچھ اراکین کے اپوزیشن کیمپ میں جانے کا بھی معاملہ بھی سامنے آیا اور محرف اراکین سندھ ہاؤس میں پائے گئے تھے جن کی تعداد سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے۔

پی ٹی آئی کے اراکین نے یہ خبر سننے کے بعد سندھ ہاؤس اسلام آباد پر دھاوا بول دیا تھا اور مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے تھے۔

منحرف اراکین کے سامنے آنے کے بعد سے صورتحال ڈرامائی طور پر تبدیل ہوئی اور حکومتی کیمپ میں ہلچل مچ گئی، انحراف کرنے والے اراکین کو اپوزیشن کے حق میں ووٹ دینے سخت انتباہات بھی کیے گئے اور باضابطہ طور پر اظہارِ وجوہ کے نوٹس بھی جاری کیے گئے۔

تاہم حکومت کی ڈھارس اس وقت بندھی جب اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کی جانب سے تحریک عدم اعتماد میں حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا گیا جس کے بدلے میں چوہدری پرویز الٰہی کو عثمان بزدار کی جگہ وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا وعدہ اور انہیں ناراض اراکین کی حمایت کا ٹاسک دیا گیا کیا گیا۔

اس پیش رفت کے سامنے آنے کے بعد 28 مارچ کو پنجاب میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تاہم وزیراعلیٰ نے اسی روز اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو پیش کردیا جسے 5 روز بعد گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے منظور کرلیا۔

اتحادیوں کی راہیں جدا

منحرف اراکین کے سامنے آنے پر پارٹی پالیسی سے انحراف کی صورت میں تاحیات نااہلی کی کوشش کر کے دباؤ ڈالا گیا اور اس مقصد کے لیے آئین کی دفعہ 63 اے کے تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا گیا۔

تاہم دوسرا بڑا جھٹکا حکومت کو اس وقت لگا جب اپوزیشن اتحاد مرکز اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اس کے 5 میں سے 4 اراکین اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد پر وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا وعدہ کیا۔

اس کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے اپنی ایک اور اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو منانے کی کوششوں میں شدت آگئی اور حکمراں جماعت کے وفود نے اتحادیوں سے کئی ملاقات کی۔

تاہم یہاں بھی حکومت کی کوششیں رائیگاں گئیں اور ایم کیو ایم پاکستان نے بھی اپوزیشن کیمپ میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد پی ٹی آئی واضح طور پر ایوان میں اکثریت سے اقلیت میں بدل گئی۔

وزیر اعظم کا ‘سرپرائز’

تاہم 27 مارچ کو وزیراعظم کے ایک اقدام نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے کو یکسر مختلف رنگ اس وقت دیا جب ‘امر بالمعروف’ کے عنوان سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ان کی حکومت کو گرانے کی تحریری طور پر دی گئی دھمکی ہے۔

خط سامنے آنے کے بعد مختلف قیاس آرائیاں پائی جارہی تھی چنانچہ حکومت نے اس مراسلے کو چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے پیش کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

تاہم اگلے ہی روز اپنے فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے مبینہ دھمکی آمیز خط پر کابینہ اراکین کے علاوہ میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بھی بریفنگ دی گئی۔

دریں اثنا علیحدہ طور پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ خط اصل میں سفارتی کیبل تھا جو امریکا میں پاکستان کے اُس وقت کے سفیر اسد مجید نے کے معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ڈونلڈ لو سے ملاقات کی بنیاد پر بھیجی تھی۔

ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ ملاقات میں امریکا کی جانب سے استعمال کی گئی زبان غیر معمولی طور پر سخت تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب تک عمران خان دھمکی آمیز مراسلے کے ساتھ منظر عام پر نہیں آئے اس وقت تک امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں ٹوٹ پھوٹ یا نئی کشیدگی کے کوئی آثار نہیں تھے۔

مذکورہ صورتحال پر وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اہم وفاقی وزرا، مشیر قومی سلامتی، مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ مشیر قومی سلامتی نے کمیٹی کو ایک غیر ملک میں پاکستان کے سفیر کے ساتھ غیر ملکی اعلیٰ عہدیدار کے باضابطہ رابطے اور کمیونیکیشن کے بارے میں بریفنگ دی، غیر ملکی اعلیٰ عہدیدار کے رابطے اور کمیونیکیشن سے متعلق وزارت خارجہ کے سفیر نے باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی عہدیدار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان کو غیر سفارتی قرار دیا تھا۔

جاری بیان کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے بریفنگ پر یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ خط مذکورہ ملک کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے جو ناقابل قبول ہے۔

بعدازاں دفتر خارجہ نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہوئے فیصلے کے مطابق سفارتی ذریعے سے باضابطہ مراسلہ دے دیا اور اس حوالے سے جاری بیان میں بھی کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔

البتہ قوم سے خطاب کے دوران بظاہر زبان پھسلنے کی صورت میں وزیر اعظم نے امریکا کا نام مبینہ طور پر اس مراسلے کے پسِ پردہ ملک کے طور پر لیا، لیکن پھر کہا کہ یہ کوئی اور ملک ہے امریکا نہیں۔

جس پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے اقدام میں امریکا کے ملوث ہونے کے دعوے محض الزامات ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں۔

تحریک عدم اعتماد مسترد

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی جس پر تاخیر کے بعد 3 اپریل کو ووٹنگ متوقع تھی۔

تاہم ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہیں وقفہ سوالات میں بات کرتے ہوئے وزیر قانون فواد چوہدری کی جانب سے قرارداد پر سنگین اعتراضات اٹھائے گئے۔

فواد چوہدری نے اپوزیشن کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو بیرونِ ملک سے پاکستان میں حکومت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک کو آئین و قانون کے منافی قراد دیتے ہوئے مسترد کردیا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔

اسمبلی تحلیل

ایوانِ زیریں کا اجلاس ملتوی ہونے کے فوراً بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے صدر کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تجویز بھجوانے کا اعلان کیا اور قوم کو نئے انتخابات کی تیاری کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اسپیکر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے جو فیصلہ کیا اس کے بعد میں صدر مملکت کو تجویز بھیج دی ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کریں ہم جمہوری طریقے سے عوام میں جائیں اور عوام فیصلہ کرے کہ وہ کس کو چاہتے ہیں۔

بعدازاں صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 58 (1) اور 48 (1) کے تحت وزیراعظم کی جانب سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے تجویز منظور کرلی تھی۔

ایک ہی روز کے دوران صورتحال میں تیزی سے رونما ہونے والی ڈرامائی تبدیلیوں کے بعد رات گئے صدر مملکت عارف علوی نے ایک فرمان جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قومی اسمبلی، کابینہ کے تحلیل اور وزیر اعظم کی سبکدوشی کے بعد نگراں وزیر اعظم کے تقرر تک عمران خان اس عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔

سپریم کورٹ از خود نوٹس

قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد بغیر ووٹنگ مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

از خود نوٹس کے علاوہ مختلف پارٹیوں کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن پر سماعت کے لیے رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

انتدائی سماعت میں سپریم کورٹ نے تمام سیاسی قوتوں اور ریاستی اداروں کو آئینی حدود کے مطابق کردار ادا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم اور صدر کے تمام احکامات سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ کوئی حکومتی ادارہ غیر آئینی حرکت نہیں کرے گا، تمام سیاسی جماعتیں اور حکومتی ادارے اس صورت حال سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے