کیا آپ کو معلوم ہے کہ ترکی کے بحیرہ ایجئین کے علاقے میں واقع "تتلیوں کی وادی” میں 80 سے زائد اقسام کی تتلیاں پائی جاتی ہیں؟
تتلیوں کی وادی ،ضلع مُولا کی تحصیل فتحئیے میں بحرالکاہل کی شہری حدود کے اندر واقع، ایک قدرتی خزینہ ہے ۔ 350 میٹر بلند عمودی چٹانوں اور سمندر سے گہری ہوئی یہ وادی حقیقی معنوں میں دنیا سے کٹی ہوئی جگہ ہے۔ اس وادی تک رسائی کاکوئی زمینی راستہ نہیں ہے۔ بحیثیت آرکیالوجک مقام کے حکومت کے تحفظ میں ہونے کی وجہ سے یہ وادی آج بھی اپنے قدرتی حسن کو بحال رکھے ہوئے ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ ہونے کی وجہ سے وادی حقیقی معنوں میں ایک قدرتی پارک کا منظر پیش کرتی ہے۔ 80 سے زائد اقسام کی تتلیوں اور خاص طور پر جرسی ٹائیگر تتلی کی وجہ سے اس وادی کو تتلیوں کی وادی کا نام دیا گیا ہے۔ جرسی ٹائیگر تتلی یوں تو دنیا کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی ہے لیکن صرف تتلیوں کی وادی میں یہ بڑے بڑے گروہوں کی شکل میں اڑتی نظر آتی ہیں۔ اس وادی کی خود سے مخصوص جغرافیائی ساخت ایک تواتر سے قدرت کا مشاہدہ کرنے والے سائنس دانوں اور لیبارٹریوں کی تحقیق کا موضوع بنتی رہتی ہے۔ یہ وادی نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں کی بھی توجہ کا مرکز ہے۔
قدرتی مناظر کی ٹوئر ازم میں تتلیوں کی وادی صرف ترکی ہی نہیں دنیا بھر میں بہترین مقامات میں سے ایک کی حیثیت رکھتی ہے۔ قدرتی حیات کے تحفظ اور اس کے ساتھ تعاون کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وادی میں ایک تنصیب موجود ہے۔ یہ تنصیب سیاحوں کو خیمے اور درختوں کے گھروں میں قیام کے امکانات فراہم کرتی ہے۔ یہ تنصیب وادی میں ایکولوجک زراعت کے ساتھ ساتھ پانی کی صفائی، سمندر کی صفائی اور صاف انرجی جیسے منصوبوں کو بھی عملی جامہ پہنا رہی ہے۔ یہ تنصیب ہر سال یکم مارچ سے یکم نومبر تک خدمات دیتی ہے ۔ ان دنوں کے علاوہ وادی میں قیام ممکن نہیں ہوتا۔
