اسلام آباد/نئی دہلی( نمائندہ جسارت+آن لائن +صباح نیوز)پاکستان نے بھارت اور امریکا کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف ڈومور کا مطالبہ مسترد کردیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ امریکا بھارت نے وزارتی مذاکرات کے بعد 11 اپریل کو حقائق کے برعکس بیان دیا ہے بیان میں کچھ غیر موجود ختم شدہ تنظیموں کا بلاجواز حوالہ دیاگیا ہے ایسے حوالے دونوں ممالک کے انسداد دہشت گردی کے بارے میںغلط اندازوں کا منبع ہیں ۔ ترجمان کا کہنا تھاکہ بدقسمتی سے دوطرفہ تعاون میکانزم کے ذریعے تیسرے ملک کو سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے بیان رائے عامہ کو دہشت گردی کے حقیقی ابھرتے خطرات سے دور رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، پاکستان کے خلاف کیے گئے دعوے بدنیتی پر مبنی، مصدقہ حقائق سے عاری ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان 2 دہائیوں سے انسداد دہشت گردی کی عالمی جنگ میں فعال، قابل اعتماد کردار کا حامل رہا پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی جنگ میں کامیابیاں، قربانیاں لازوال ہیں، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کاوشوں کا امریکا سمیت دنیا نے اعتراف کیا ،خطے کے کسی ملک نے امن کے لیے پاکستان سے زیادہ قربانیاں نہیں دیں۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق بھارت درحقیقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے بھارت مقبوضہ خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال رہا ہے، عالمی برادری بھارت کے دہشت گردی کو بطور ریاستی پالیسی استعمال سے روکے ،یہ ریکارڈ پر ہے کہ بھارت دیگر ممالک کی سرزمین سے دہشت گرد نیٹ ورک چلاتا ہے ،سنگین صورتحال کا ادراک نہ کرنا عالمی ذمے داری سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے، پاکستان نے اپنے تحفظات سے سفارتی ذرائع سے امریکا کو آگاہ کر دیا ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ شراکت دارممالک جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی پر معروضی نقطہ نظر اختیار کرتے ہوئے یکطرفہ، سیاسی مقاصد، زمینی حقائق کے برعکس حمایت سے گریز کریں۔واضح رہے کہ امریکا اور بھارت نے گزشتہ روز ایک مشترکہ بیان میں پاکستان پر زور دیا تھاکہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری، پائیدار اور ٹھوس کارروائی کرے کہ اس کے زیر انتظام کوئی بھی علاقہ دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔بھارت میں امریکی سفارتخانے اور قونصل کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے دہشت گرد پراکسیوں کے استعمال اورمبینہ طور پر سرحد پار دہشت گردی کی سختی سے مذمت کی اور 26/11کے ممبئی حملے اور پٹھان کوٹ حملے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔یہ بیان بھارت اور امریکا کے درمیان چوتھے ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کے ایک حصے کے طور پر جاری کیا گیا جس کا گزشتہ روز واشنگٹن ڈی سی میں اختتام ہوا۔
