فلسطین صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں صورتحال خطرناک، حساس اور پھٹنے کو تیار ہے اور اس عدم استحکام کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔
فلسطین صدارتی دفتر کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہروں نابلوس اور بیت اللحم میں 2 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بارے میں تحریری بیان جاری کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل ہر روز فلسطینیوں کو ہلاک کر کے تناو میں اضافے اور استحکام میں خلل کا سبب بن رہا ہے۔ اسرائیل کی تحریکی پالیسی تناو میں شدت پیدا کر رہی ہے اور حالات حساس، خطرناک اور پھٹنے کو تیار نقطے تک آ پہنچے ہیں۔
ابو ردینہ نے کہا ہے کہ "اسرائیلی قابض فوجیں ہر روز فلسطینی عوام کو قتل کر رہی ہیں۔ سال کے آغاز سے لے کر اب تک ہمارے 37 شہری شہید ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یہودی آبادکاروں کے جرائم الگ سے ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ صرف مذمتی پالیسی پر ہی اکتفا نہ کیا جائے۔ بین الاقوامی قانونی فیصلوں کا اطلاق بھی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ مارچ کے آغاز سے اسرائیلی فوج کی طرف سے گرفتاریوں اور وسیع پیمانے کے کنٹرول کی وجہ سے مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں تناو نقطہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔
