English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ملک میں اب کبھی مارشل لا نہیں آئے گا ، پاک فوج

راولپنڈی:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سیکورٹی کمیٹی کے اعلامیہ میں سازش کا لفظ نہیں ‘آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں نہ قبول کریں گے‘ملک میں اب کبھی مارشل لانہیں آئے گا‘ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے‘ اس طرح کی مہم پہلے کی طرح ناکام ہوگی‘آرمی چیف29نومبر کو سبکدوش ہوجائیں گے‘مسلح افواج‘ عدلیہ اور پارلیمنٹ جمہوریت کی محافظ ہیں‘افواہوں کی بنیاد پر اداروں کی کردار کشی قبول نہیں کریں گے اداروں کیخلاف مہم کا حکومت کو نوٹس لینا چاہیے‘بی بی سی نے واہیات اسٹوری شایع کی‘اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو کوئی آپشن نہیں دیا‘اپوزیشن سے رابطے کے لیے وزیراعظم آفس سے رابطہ کیا گیاتھا ۔ملک کی تازہ سیکورٹی و سیاسی صورتحال اور سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں پر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکا کی طرف سے کوئی سازش نہیں ہوئی ‘ فوج نے نہیں بلکہ عمران خان نے فوج سے رابطہ کرکے تحریک عدم اعتماد واپس کرا کر استعفے کی بات کی ‘ امریکانے اڈے مانگے ہی نہیں ۔میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، نہ یہ مہم پہلے کامیاب ہوئی نہ اب ہوگی‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نہ تو مدت میں توسیع طلب کر رہے ہیں اور نہ ہی قبول کریں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف اپنی مدت پوری کرکے اس سال 29 نومبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں دھمکیوں کے خلاف دن رات کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں ہے، آج کی پریس بریفنگ کا مقصد قومی سلامتی کی صورتِ حال سے آگاہ کرنا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افواہوں کی بنیاد پر بے بنیاد کردار کشی کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، یہ ملک کے مفاد کے سراسر خلاف ہے‘ 3 ماہ کے دوران 128 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی طرف کسی نے بھی میلی آنکھ سے دیکھا تو اس آنکھ کو نکال دیں گے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے 9 اپریل کی رات سے متعلق بی بی سی اردو کی اسٹوری کے حوالے سے بتایا کہ 9 اپریل کی رات وزیراعظم ہائوس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی اُس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سب باتیں بالکل جھوٹ ہیں، بی بی سی نے بہت ہی واہیات اسٹوری شایع کی، اس سے بڑا جھوٹ کسی انٹرنیشنل لیڈنگ ایجنسی کی طرف سے نہیں ہوسکتا، یہ ایک مکمل من گھڑت اسٹوری تھی ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہائوس میں صدر کے چیمبر میں دو اعلیٰ افسران کی ملاقات سے متعلق مجھے کوئی علم نہیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے کوئی آپشن نہیں دیا تھا، ڈیڈ لاک کے دوران وزیرِ اعظم آفس سے آرمی چیف سے رابطہ کیا گیا کہ بیچ بچائو کی بات کریں۔انہوں نے بتایا ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت آپس میں بات کرنے پر تیار نہیں تھی جس پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وہاں گئے، مختلف رفقاء سے بیٹھ کر 3 چیزیں ڈسکس ہوئیں کہ کیا کیا ہوسکتا ہے، ان میں وزیرِ اعظم کا استعفا، تحریکِ عدم اعتماد واپس لینا اور وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا آپشن تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ تیسرے آپشن پر سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ قابل قبول ہے، ہماری طرف سے اپوزیشن سے بات کریں جس پر آرمی چیف نے پی ڈی ایم رہنماؤں کے کے سامنے یہ گزارش رکھی جس پر سیر حاصل بحث ہوئی لیکن اپوزیشن نے اس پر کہا کہ ہم ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ نیوٹرل وغیرہ کوئی چیز نہیں، ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، فوج مستقبل میں بھی اپنا آئینی کردار ادا کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ گر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ ہم نے مداخلت کی ہے تو سامنے لائے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق بات کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے، فوجی اڈوں کا کسی سطح پر مطالبہ نہیں کیا گیا، اگر مطالبہ ہوتا تو ہمارا جواب ’ایبسیلیوٹلی ناٹ‘ ہی ہوتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا صرف اور صرف جمہوریت میں ہے، پاکستان میں کبھی مارشل لاء نہیں آئے گا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، جلسے جلوس جمہوریت کا حصہ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ ڈی مارش صرف سازش پر نہیں دیا جاتا، اس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے بتایا کہ اس دن آرمی چیف کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی او ر وہ اس دن آفس بھی نہیں آئے تھے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے