گذشتہ دنوں لاہور میں حساس ادارے کے افسر پر بہیمانہ تشدد کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے ماڈل ٹاؤن کچہری میں خواجہ سلمان رفیق اور حافظ نعمان کو پیش کیا نہیں کیا جائے گا.
پولیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعہ میں گرفتار لیگی رہنما خواجہ سلمان رفیق اور حافظ نعمان کو عدم ثبوتوں کی بنا پر وقتی طور رہا کر دیا ہے۔ دونوں کی گرفتاری التوا میں رکھی گئی ہے۔
تفتیشی افسر نے کہا ہے کہ معاملہ زیر تفتیش ہے، اس لئے اسمبلی سیشن کے بعد پوچھ گچھ ہوگی۔ کسی کے پروڈکشن آرڈر کی ضرورت نہیں ہے۔ پولیس افسر نے کہا کہ دونوں لیگی شخصیات جمعرات کے روز کیس میں شامل تفتیش ہونے کے لئے خود پیش ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ حساس ادارے کے افسر میجر حارث کے والد کے بیان پر گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سلمان رفیق اور حافظ نعمان کو ضمنی میں نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ سلیمان اور حافظ نعمان خود تھانہ گارڈن ٹاؤن پہنچے تھے۔ تھانہ گارڈن ٹاؤن پولیس نے ڈرائیور اور گارڈ سمیت دیگر پر مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
ادھر مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ خواجہ سلمان رفیق اور حافظ نعمان کی ایما پر میرے بیٹے میجر حارث کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حافظ نعمان اور خواجہ سلمان رفیق ساتھ اگلی گاڑی میں موجود تھے۔ ملزمان کی ایما کے بغیر ملازمین تشدد نہیں کرسکتے۔
*قائمقام سی سی پی او لاہور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان کی پریس کانفرنس.
قائمقام سی سی پی او شہزادہ سلطان کی ایک حاضر سروس افسر پر سیاسی جماعت کے چار پرائیویٹ گارڈز کے تشدد اور واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری بارے میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلات سے آگاہ کر ہیں۔ pic.twitter.com/6YyexIeQ9R— Capital City Police Lahore Official (@CcpoLahore) April 14, 2022
خیال رہے کہ اس کیس کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے قائمقام سی سی پی او لاہور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان نے کہا تھا کہ یہ کلمہ چوک کے قریب افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں سیاسی جماعت کے رہنما کے پرائیویٹ گارڈز نے حساس ادارے کے ملازم کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ راستہ نہ دینے پر پرائیویٹ گارڈز نے حساس ادارے کے افسر کو تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے ملوث چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا اور گاڑی قبضہ میں لے لی۔
Salman rafique guards brutally beating a serving army officer Major Haris in lahore on ferozpur road lahore.its a very shameful act by salman rafique #ImportedGovtNotAcceptable #majorharis pic.twitter.com/4jAVH74iSp
— 📍EAGLE📍 (@invisiablesoul) April 13, 2022
اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سلمان رفیق کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر کل سے غلط کہانی پیش کی جا رہی ہے،اس لئے ضروری تھا کہ معاملے کی وضاحت کریں اور قانون کے سامنے پیش ہوں۔
لیگی رہنما نے کہا آج کل سیاسی سرگرمیاں زیادہ ہیں۔ میں واقعے کے روز گاڑی خود چلا رہا تھا اور حافظ نعمان میرے ساتھ تھ۔ گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ہمارے گارڈز کی گاڑی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں پی اے نے فون پر بتایا کہ ایک گاڑی سامنے آئی اور ان سے تلخ کلامی ہوئی۔ ون فائیو سے رابطہ ہوا ہے۔ میں نے کہا پولیس کو بلائیں، آپ کا کام نہیں ہے۔ حارث صاحب قابل احترام ہیں، جو ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں۔ سلمان رفیق نے کہا پولیس کو ذمہ دار شہری کے طور پر گارڈز اور گاڑی حوالے کر دیے ہیں۔
