English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سردار اختر مینگل حکومتی اتحاد چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں، کامران خان

القمر

سینئر تجزیہ کار کامران خان نے سردار اختر مینگل کی ایک ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلیدی اتحادی نے مخلوط حکومت قیام پہلا ہفتہ مکمل ہونے پر اس اتحاد سے رخصتی اختیار کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

اپنی ٹویٹس میں کامران خان نے لکھا کہ ان کی محسن داوڑ کی طرح شکایات کی توپوں کا رخ فوج ہے اور بے چارے وزیراعظم شہباز شریف ہکا بکا ہیں کہ ہماری فوج کے ساتھ کھڑے ہوں یا محسن داوڑ اور اختر مینگل کے ساتھ۔

خیال رہے کہ سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ہم اس حکومت کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟ کیا یہ اعتماد سازی کے اقدامات ہیں؟ کیا تشدد سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہوگا؟ ہماری ترجیح بلوچستان اور اس کے عوام ہیں اور میں واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

ایک اور ٹویٹ میں کامران خان نے لکھا کہ شہباز حکومت کیخلاف ان کے کلیدی اتحادی نے قومی اسمبلی میں سخت ترین احتجاج کیا۔ محسن داوڑ فرماتے ہیں پاکستانی فوج پاکستان ائیر فورس نے پرسوں افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانے تباہ کرکے” ریڈ لائین کراس کی ” شہباز حکومت خاموش ہے محسن داوڑ کابینہ شمولیت زیر غور ہے ماشاء اللہ۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اتحادی اختر جان مینگل کی بی این پی نے قومی اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ ان کا احتجاج ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے چاغی میں ” ریڈ لائن کراس” کرتے ہوئے ان کے حامیوں کو ہلاک کیا۔ 24 گھنٹوں میں 2 اتحادیوں نے افواج کے خلاف رپورٹ درج کی۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی بھرپور کاوش ہے کہ سیاسی کشمکش میں اس کی لیڈرشپ حوالے سے بیانیہ قابو میں رہے۔ اطمینان کی بات ہے عمران خان فی الحال ذمہ داری دکھا رہے ہیں، برعکس اس کے شہباز حکومت سرپرست کچھ ماہ پہلے تک موجودہ فوجی لیڈرشپ کو ہر لمحہ معتوب کرتے تھے۔ کوشش ہونی چاہیے کہ عمران خان احتیاط کی راہ نہ چھوڑیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے