دہشتگردوں نے شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے اسکول کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا ہے۔ کابل پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ افغان دارالحکومت کے دشت برچی کے نواحی علاقے میں لڑکوں کے اسکول میں ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ خالد زدران نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ مغربی کابل میں عبدالرحیم شاہد ہائی اسکول کے باہر دیسی ساختہ بم دھماکوں میں 6 افراد ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔ اس نے قبل ازیں ٹویٹ کیا تھا کہ تین دھماکوں نے اسکول کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جو ایک ایسے علاقے میں ہوئے ہیں جہاں بنیادی طور پر شیعہ ہزارہ کمیونٹی آباد ہے – ایک نسلی اور مذہبی اقلیت جو ماضی میں اکثر داعش کے حملوں کا نشانہ بنتی ہے۔ ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ منگل کے دھماکے اس وقت ہوئے جب طلباء اپنی صبح کی کلاسوں سے باہر آ رہے تھے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شراف پر فائرنگ کے معاملے میں بڑی کارروائی، تینوں شوٹر راجستھان کے کوٹا سے گرفتار
- ’حکومت کو برطرف کر دینا چاہیے‘، ٹائیگر شراف پر حملے کے بعد سنجے راؤت کا سخت ردعمل
- لال کرشن اڈوانی آج اسپتال سے ہوں گے ڈسچارج، چیسٹ انفیکشن کی وجہ سے ہوئے تھے داخل
- دہلی میں ای رکشوں کے نئے ضوابط کا مسودہ پیش، مالکان سے لے کر ڈرائیوروں تک طے ہوں گی شرائط
- ’70 ہزار شوٹر ہمارے پاس، 200 بھائی ممبئی میں موجود‘، لارنس بشنوئی گینگ کی نئی دھمکی آئی سامنے