ترکی صدارتی دفتر محکمہ مواصلات کے سربراہ فخر الدین آلتن نے کہا ہے کہ استنبول مذاکرتی مرحلہ روس اور یوکرین کے درمیان قیام امن کے حوالے سے ایک نہایت اہم امکان ہے لہٰذا ہر ایک کو اس مرحلے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
آلتن نے صدارتی سوشل کمپلیکس میں "روس۔یوکرین جنگ اور ترکی پر اثرات: خطرات و مواقع” کے زیر عنوان منعقدہ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ دیگر پوری دنیا کی طرح روس۔یوکرین جنگ ترکی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ استنبول مذاکراتی مرحلہ روس کے صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ بھی اور یوکرین کے صدر ولادی میر زلنسکی کے ساتھ بھی قریبی ڈائیلاگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مذاکراتی مرحلہ نہ صرف ترکی کے استحکام کے حامی کردار کی نمائندگی کر رہا ہے بلکہ صدر رجب طیب ایردوان اس مرحلے کو آغاز سے ہی بحران کے حل اور تناو میں کمی کے امکان کے طور پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔
آلتن نے کہا ہے کہ ترکی نے اس مذاکراتی مرحلے میں ادا کردہ مخلصانہ اور حقیقت پسندادنہ کردار کے ساتھ نہ صرف روس اور یوکرین کا اعتماد حاصل کیا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ترکی کو دونوں ممالک کے درمیان ترجیح پر مجبور نہیں کیا جا سکے گا۔
انہوں نے ترکی کے، پہلے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے پلیٹ فورم سے اور بعد ازاں استنبول دولما باہچے پیلس سے، مذاکراتی میز کے قیام کے لئے پیش رو بننے کی یاد دہانی کروائی اور کہا ہے کہ میں خاص طور پر اس پہلو پر زور دینا چاہتا ہوں کہ استنبول مذاکراتی مرحلہ ابھی تک فائر بندی اور امن کے قیام کے لئے ایک اہم امکان کی حیثیت سے بین الاقوامی رائے عامہ کے سامنے کھڑا ہے۔ لہٰذا جیسا کہ صدر رجب طیب ایردوان نے بھی کہا ہے کہ ہر ایک کو اس مذاکراتی مرحلے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
صدارتی دفتر محکمہ مواصلات کے سربراہ فخر الدین آلتن نے کہا ہے کہ ترکی نے توازن بننے والا موقف نہیں متوازن موقف اختیار کیا ہے۔ خاص طور پر مذاکرات میں ہمارے سہولت انگیز کردار نے ثابت کر دیا ہے کہ ترکی ایک تعمیری موقف اپنائے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر کوئی قدم اٹھا سکتا ہے۔
