اسلام آباد (صباح نیوز) زیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعتراف کیا ہے میہڑ واقعہ پر حکومتی ریسپانس سست تھا،سانحہ پر 7 دن میں رپورٹ طلب کی ہے، ذمے داران کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہوم سیکرٹری انکوائری کر کے رپورٹ پیش کریں گے،سروے شروع کردیا ہے جو انسانی جانیں ضائع ہوئیں اس کا تو کوئی ازالہ نہیں ہو سکتا، لیکن گاؤں والوں سے وعدہ کیا ہے کہ گھر بنا کر دیں گے، جن مویشیوں کی اموات ہوئیں، اناج ضائع ہوا، ان کو ازالے کی رقم دیں گے۔مراد علی شاہ نے کہاکہ عارف علوی صدر پاکستان ہیں ان کی آئینی ذمے داریاں ہیں، آئین کی پاسداری ان کا کام ہے، پارٹی لائن سے اوپر سوچنا چاہیے، اگر وہ آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پا رہے تو انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے، اگر ان کی پارٹی کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ پاکستان کے آئین کو فالو نہیں کر سکتے تو پھر عہدہ چھوڑ دیں۔دوسری جانب وزیرِاعظم شہباز شریف کو ضلع دادو کے شہر میہڑ کے گائوں فیض محمد دریانی چانڈیو میں آگ لگنے کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر متاثرہ گائوں فیض محمد دریانی چانڈیو کے متاثرین کے لیے مالی امداد جاری ہے، مرحومین کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔وزیراعظم نے ضلعی انتظامیہ کو متاثرین کی بحالی تک ہر ممکن امداد فراہم رکھنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے ابتدائی رپورٹ کے بعد آگ کی وجہ معلوم کرنے کی مکمل تحقیقات کا بھی حکم دے دیا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ تفصیلی رپورٹ میں غفلت کا پتا چلنے پر ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔
؎
