اسلام آباد/لاہور(صباح نیوز+نمائندہ جسارت)وفاقی شریعت عدالت ملک سے سودی نظام معیشت کے خاتمے کے لیے دائر مقدمات کافیصلہ 27رمضان المبارک کو سنائے گی۔ عدالت نے 12اپریل کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔32 سال سے زیر التوا ان مقدمات کی سماعت کے دوران وفاقی شریعت عدالت کے 13 چیف جسٹس صاحبان عہدوں سے سبکدوش ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس محمد نور مسکان زئی14 ویں چیف جسٹس ہیں جن کی سربراہی میں 3رکنی بنچ ان مقدمات کا فیصلہ سنائے گا۔ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم ایم شیخ شامل ہیں۔ ادھرنائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے وفاقی شریعت عدالت کے چیف جسٹس محمد نور مسکان زئی اور دیگر اراکین بینچ کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے ان کی درخواست کی پذیرائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بینچ کا یہ فیصلہ اتنا ہی تاریخی ہو گا جتنا 27رمضان المبارک کو پاکستان کا بننا ہے، پاکستان اسلامی ریاست کے طور پر وجود میں آیا جبکہ 75برس گزرنے کے باوجود سودی معیشت کی شکل میں اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ جاری ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی شریعت عدالت کا یہ فیصلہ سودی معیشت کے خاتمے کا بڑا ذریعہ ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی شریعت عدالت نے دسمبر 1991ء میں بھی اسی طرح کا ایک فیصلہ دیا تھا، لیکن حکومتوں نے طویل عرصے اس پر عمل درآمد کے راستے میں رکاوٹیں ڈالیں۔ فرید پراچہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حکمرانوں کو موقع فراہم کیا کہ رزق حرام کو ختم کرتے بلکہ انھوں نے اسے برقرار رکھنے کے لیے عدالتوں کا سہارا لیا۔ مختلف حکومتوں نے قوم کے 32سال ضائع کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ حکومت کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر اس نے بھی سود جیسی لعنت کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا راستہ اختیار کیا ، تو منبر و محراب سے ان کے خلاف ایک تاریخی تحریک چلائیں گے۔
