English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صدر کو وزیراعلیٰ پنجاب کےحلف کے لیے کسی اور کو نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت

القمر

گورنر کے حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکار پر لاہورہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے صدرمملکت کو وزیراعلیٰ پنجاب کےحلف کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی کے روبرو پیش ہو گئے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے عدالت کو بتایا کہ گورنر پنجاب کے حلف نہ لینے پر اسپیکر حلف لے سکتا ہے، درخواست میں اسپیکر کو فریق نہیں بنایا گیا، گورنر سمجھتے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب آئین کے تحت نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ گورنر الیکشن کو جا کر دیکھے گا؟
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ گورنر کوئی ربڑ اسٹیمپ نہیں، غیر معمولی صورتِ حال ہوئی جو پہلے کبھی نہیں ہوئی، ایک خاتون رکن زخمی ہوئیں، وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ تو کیا اس واقعے سے ہاؤس کی پروسیڈنگ ختم ہو جائے گی؟
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ ہماری نیت نہیں کہ کوئی تاخیر ہو۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آج 21 دن ہو گئے صوبے میں کوئی حکومت نہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے الیکشن 16 اپریل کو ہوا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ الیکشن بھی عدالت کے حکم پر ہوا ہے، الیکشن کیسے ہوا یہ عدالت جانتی ہے، گورنر بتائیں کہ وہ غیر حاضر ہیں یا حلف نہیں لے سکتے؟
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر نے حلف لینے سے انکار کر دیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ چیف جسٹس امیر بھٹی نے حکم دیا کہ لکھ کر دے دیں کہ گورنر نے حلف سے انکار کر دیا ہے، تاکہ ہم حلف کے لیے کسی اور کو کہہ دیں، 11 بجے تک گورنر سے لکھوا کر عدالت میں پیش کریں، گورنر نے اگر انکار لکھنا ہے تو عدالت کے بجائے متعلقہ اتھارٹی کے نام لکھیں، 11 بجے دوبارہ سماعت ہو گی۔
وقفے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں حمزہ شہباز کی بطور وزیرِ اعلیٰ حلف برداری کی درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے چیف جسٹس امیر بھٹی کو بتایا کہ گورنر پنجاب حلف نہ لینے کی وجہ صدرِ مملکت کو بھیج رہے ہیں، گورنر پنجاب کسی عدالت کو جوابدہ نہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ 21 روز سے پنجاب میں حکومت نہیں، سوال ایک ہے کہ کیا وہ انکار بھیج رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ گورنر حلف نہ لینے کی وجہ صدرِ مملکت کو بھیج رہے ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ عدلیہ کا ادارہ ایگزیکٹیو کی وجہ سے فیصلہ کرنے سے رکا ہوا ہے، پورا پنجاب اس وقت رکا ہوا ہے، گورنر پنجاب کو یہ بتا دیں کہ انکار کا تحریر کرنا کتنا ضروری ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ یہ میں نے نہیں لکھنا، وہ گورنر نے خود لکھنا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں کہ وہ آج ہی لکھ دیں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت وہ صدر کو جواب دہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے