امریکا کی خارجہ پالیسی کے سب سے بڑے ناقد پروفیسرچومسکی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف بغاوت کا کوئی بامقصد ثبوت نہیں ہے، سابق سفیر کی کیبل کو ٹھوس ثبوت ماننے والوں کی منطق درست مان لی جائے تو اس حساب سے تو دنیا بھرمیں حکومتوں کی تبدیلی کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔
پروفیسر چومسکی کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز خط کو بغاوت کا ثبوت قراردینا *بلا جواز* ہے۔ عمران خان کے خلاف کسی بغاوت کی منصوبہ بندی کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ طاقتور ہے لیکن اتنا بھی نہیں، دنیا میں ہونے والی کسی بھی *سرگرمی* کو سی آئی اے یا مغربی منصوبے سے منسوب کرنے کا رجحان ہے لیکن بغاوت کے اس دعوے کا کوئی بامقصد ثبوت نظر نہین آیا، پاکستان کے امریکا میں سابق سفیر اسد مجید کی کیبل کوئی ٹھوس ثبوت نہیں اور جو اس کیبل کوٹھوس ثبوت سمجھتے ہیں تو اس منطق کے حساب سے تو دنیا بھر میں حکومتوں کی تبدیلی کی منصوبہ بندی ہر وقت ہورہی ہے جو بلا مقصد ہے۔
عمران خان کے خلاف بغاوت کا کوئی ثبوت نہیں، امریکی پروفیسر چومسکی
القمر
