اسلام آباد ‘ لاہور(صباح نیوز+نمائندہ جسارت)ملک میں توانائی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے اور شارٹ فال ایک بار پھر7ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرچکا ہے۔ذرائع پاورڈویژن نے بتایا ہے کہ بجلی گھروں کو ایل این جی اور فرنس آئل کی مطلوبہ فراہمی تاحال نہیں ہوسکی اور تکنیکی وجوہات کی بنا پر بند پاور پلانٹس بھی بدستور بجلی کی پیداوار سے قاصر ہیں جبکہ نندی پور پاور پلانٹ، مظفرگڑھ اٹلس ٹی پی ایس جامشورو اور متعدد پاور پلانٹس بند ہیں۔ذرائع پاورڈویژن کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 7ہزار468میگاواٹ ہوچکا ہے، بجلی کی مجموعی پیداوار 18ہزار 31اور طلب 25 ہزار 500میگاواٹ ہے جبکہ بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت36ہزار16میگاواٹ ہے۔ ذرائع پاور ڈویژن نے بتایا کہ پن بجلی ذرائع سے 3 ہزار 674 میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے، سرکاری تھرمل پاور پلانٹس صرف 786میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، نجی شعبے کے بجلی گھروں کی پیداوار 9ہزار 526 میگاواٹ ہے، نجی شعبے کے بجلی گھروں کی پیداوار9 ہزار526 میگاواٹ ہے، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس487 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، سولر پاور پلانٹس سے 104 میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے،بگاس سے 141 اور ایٹمی بجلی گھر 3 ہزار 312 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔ذرائع پاورڈویژن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 10 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے،ہائی لاسز والے علاقوں میں 18گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیںحکومت نے ڈیزل کی قلت کانوٹس لیتے ہوئے ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو چھاپے مارنے کی ہدایت جاری کردی ہے ۔سیکرٹری پیٹرولیم علی رضا بھٹہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ورچوئل اجلاس ہوا۔جس میں اوگرا، پی ایس او حکام اور تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پیٹر ولیم مصنوعات کے مطلوبہ ذخائر موجود ہیں،21 روز کا ڈیزل اور31روز کاپیٹر ول کا مطلوبہ ذخیرہ موجود ہے۔ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ ڈیزل مہنگا ہونے کی افواہوں پر مصنوعی قلت پیدا کی گئی ، جس کی وجہ سے ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ طور پر 52 روپے لیٹر اضافے کا امکان ہے ،زیادہ مہنگا ہونے کی افواہوں پر ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی کا انکشاف ہوا۔اجلاس میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو چھاپے مارنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے،ذخیرہ اندوزی میں ملوث ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے ،ڈیزل کے مجاز ڈیلرز کا اسٹاک چیک اور مانیٹرنگ سخت کی جائے، ڈیزل کی سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کو یقینی بنایا جائے، اس وقت ملک میں تیل کمپنیوں کے 10ہزار کے لگ بھگ مجاز ڈیلرز ہیں، بغیر لائسنس ڈیلرز کی تعداد لا محدود ہے ، حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں، بغیر لائسنس ڈیلرز نے بڑے پیمانے پر ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی کی ہے، گندم کی کٹائی کی وجہ سے ڈیزل کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، ڈیزل کی یومیہ کھپت 23 ہزار سے بڑھ کر 33 ہزار ٹن ہو گئی ہے،ڈیزل کی کھپت میں اضافے کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوئی ہے، ڈیزل کی مصنوعی قلت میں سیاسی مخالفت کا عنصر بھی شامل ہے۔ ادھرپنجاب کے مختلف شہروں میں ڈیزل کی قلت کے باعث پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔پنجاب کے کئی شہروں میں پیٹرول پمپس پر ڈیزل کی فروخت بند کردی گئی ہے ۔پیٹرولیم ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم کمپنیوں نے ڈیزل کی ترسیل روک دی ہے ۔پیٹرولیم ایسوسی ایشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے امکان کے باعث کمپنیاں تیل فراہم نہیں کر رہیں۔اس حوالے سے پیٹرول پمپ مالکان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ردوبدل کا امکان ہے، جس وجہ سے ڈیزل نہیں منگوایا جب کہ مرکزی جنرل سیکرٹری کسان اتحاد کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی بندش کی وجہ سے گندم کی فصل شدید متاثر ہورہی ہے۔پنجاب کے شہر لیاقت پور میں ڈیزل کی مصنوعی قلت اور مہنگے داموں فروخت کرنے پر انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کی گئی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے مختلف پمپس کو چیک کیا، جن پمپوں پر ڈیزل بلیک میں فروخت ہورہا تھا ان پر ایک لاکھ 30 ہزار کا جرمانہ کیا گیا۔دوسری جانب وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے پیر کو ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے5 سال میں ملک سے بدترین لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، تحریک انصاف کی حکومت نے نہ ہی بروقت ایندھن خریدا اور نہ ہی پاور پلانٹس کی مرمت کی جس کی وجہ سے موجودہ لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ناکارہ پلانٹس کے ذریعے مہنگی بجلی پیدا کرنے سے عوام کو ماہانہ 100ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے،ہماری حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہے۔
