English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پی ڈی ایم اقتدار کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی گود میں جا بیٹھی ،حافظ نعیم الرحمٰن

القمر

حیدرآباد (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہاہے کہ محض اقتدار کے لیے منتخب نمائندوں کی خریدو فروخت کی گئی جماعت اسلامی کسی کھیل کا حصہ نہیں بنی ، ہمیں معلوم تھا ایک طرف حکومت سیاسی شہید ہونے جارہی ہے دوسری جانب پی ڈی ایم کی جوتیوں میں دال بٹے گی ، 3 سال تک اسٹیبلشمنٹ کو برا کہنے والی پی ڈی ایم اس کی گود میں جا بیٹھی،عمران خان نے جو آئی ایم ایف کی غلامی میں معاملات طے کیے ہیں وہ عوام کو بجٹ میں پتا چلے گا سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں بھی حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے ، حیدرآباد سے دریا سندھ اور3 نہریں بہتی ہیں لیکن انتظامیہ کی بے حسی ،نااہلی کرپشن کی وجہ سے حیدرآباد شہری پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ،کارکنان بلدیاتی انتخابات کی تیاری کریں ،جماعت اسلامی ہر علاقے میں نمائندہ کھڑا کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی حیدرآباد کی جانب سے منعقدہ عید ملن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔عید ملن تقریب سے ڈپٹی جنرل سیکرٹریز جماعت اسلامی سندھ عبدالوحید قریشی ، حافظ طاہر مجید، امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد عقیل احمد خان ، سردار زبیر سولنگی ،نائب امرا عبدالقیوم شیخ ، ڈاکٹر سیف الرحمن ، جنرل سیکرٹری ظہیر الدین شیخ ، اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم معاذ قریشی اور نیشنل لیبر فیڈریشن کے شکیل شیخ نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محض اقتدار کے لیے منتخب نمائندوں کی خریدو فروخت کی گئی ،پی ڈی ایم 3 سال تک جس اسٹیبلشمنٹ کو برا کہتی رہی ، حالات کے بدلنے کے ساتھ پوری پی ڈی ایم اسٹیبلشمنٹ کی گود میں جا کر بیٹھ گئی ،پی ڈی ایم نے عوام کے لیے نہیںبلکہ اقتدار کے لیے سارے کام کیے ان میں بنیادی کردار آصف زرداری نے ادا کیا ہے،ن لیگ میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ پارلیمنٹرین کی خریدو فروخت کرے یہ عبور صرف آصف زرداری کو ہی حاصل ہے ، آصف زرداری کی قیادت میں جو پہلے سب ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتے تھے ، نواز شریف آصف زرداری کے خلاف ، آصف زردار ی نواز شریف کے خلاف ، شہباز شریف کہتے تھے لاہور کی مال روڈ پر گھسیٹوں گا میں آصف زرداری کو، یہ صرف اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اس پوری کھیل کو انجام دیا ۔اب زیر بحث یہ ہے کہ مجھے کیوں نکالا گیا مجھے کیوں ہٹایا گیا، سیاست اسی طرز پر ہو رہی ہے کہ امریکانے ہٹایا ہے ، امریکا نے یہ کام کیا ہے ، اس پورے عمل کا جماعت اسلامی حصہ نہیں بنی ہمیں معلوم تھا کہ ایک طرف حکومت سیاسی شہید ہوگی اور دوسری طرف پی ڈی ایم کی جوتیوں میں دال بٹے گی۔ سب یہ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے غلام نہیں بنیں گے ، عمران خان نے بھی کہا تھا کہ خود کشی کر لوں گا لیکن آئی ایم ایف سے قرض نہیں لوں گا،لیکن اس حکومت نے جیسے ہی اقتدار سنبھالا ہے سب سے پہلا کام آئی ایم ایف کی غلامی اختیار کی ہے اور ان سے جو معاملات طے پائے ہیں وہ عوام کو بجٹ میں پتا چلے گاہر چیز کی قیمت بھی بڑھے گی اور حکومت کی نا اہلی کرپشن کا ملبہ جو گرے گا وہ عوام پر پڑے گا۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ نظام تبدیل ہو ، تمام پارٹیوں کا یہ ہی حال ہے جب اقتدار میں آتے ہیں تو چاہتے ہی نہیں ہیں کہ الیکشن ہوں،جماعت اسلامی کے کارکنان بلدیاتی انتخابات کی بھر پور تیاری کریں ، ہر علاقے سے اپنا نمائندہ کھڑا کریں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے