کراچی:معروف سماجی رہنما و ماہر تعلیم حنید لاکھانی نے کہا ہے کہ کراچی میں گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ ہیضہ، ڈائریا اور خسرہ کے کیسز میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے احتیاط نہ برتنے اور آلودہ پانی کے استعمال کے باعث ہیضہ کے 149سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں
شہری احتیاط برتیں اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں میں احتیاط برتیں ، ماہرین صحت کے مطابق ہیضہ ایک ایسا بیکٹیریا ہے جو آلودہ پانی سے جسم میں منتقل ہوکر پیٹ کو متاثر کرتا ہے اور نظام انہضام کو تباہ کردیتا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنید لاکھانی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیا ن میں کیا،
جنید لاکھانی نے کہا کہ اس مرض میں مبتلا مریض کو چاہیے کہ وہ فوری طور پرا پنے معالج سے رجو ع کرے کیونکہ دیر کرنے کی صورت میں یہ وائرس جسم کا سارا پانی نکال دیتا ہے جس کے باعث مریض کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جس سے مریض کی دماغی حالت ابتر ہونے کے ساتھ ساتھ موت یا عمر بھر کی دماغی کمزوری کا خطرہ ہوتا ہے،
بڑہتا ہوا درجہ حرارت پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں خصوصا اسہال اور ہیضے کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہے ہیضہ جیسی بیماری کی روک تھام ممکن ہے لیکن آلودہ پانی اور ہاتھ نہ دھونے کی وجہ سے ہیضہ پھیل رہا ہے ، انہو ںنے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بہت سارے مسائل کی وجہ ہے کراچی کے بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں ،
ہرشہری منرل واٹر خرید کر نہیں پی سکتا جس کی وجہ سے پانی کی بوسیدہ اور ٹوٹی پھوٹی لائنز سے آنےوالا پانی پینے کے لیئے استعمال کرتے ہیں جو کہ آلودہ ہونے کی سبب بہت ساری بیماریوں کی وجہ بنتا ہے جس میں اہم ترین پیٹ کے امراض ہیں جو کہ نہایت ہی سنجیدہ مسئلہ ہے محکمہ صحت بڑہتے ہوئے ڈائریا اور ہیضہ کے کیسز کے پیش نظر مفت طبی کیمپس کا انعقاد کرے
جہاں ہیضہ اور ڈائیریا کے مریضوں کے مفت طبی معائنے کیے جائیں اور ان کو مفت ادویات فراہم کی جائیں ، انہوں نے مزید کہا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیئے کوئی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت بنتی جارہی ہے۔
