English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

گورنر ہاؤس پر حملہ ہوا تو نتائج مختلف ہونگے، خانہ جنگی ہو سکتی ہے: گورنر پنجاب

القمر

گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل اور وزیر داخلہ اپنے دھمکی آمیز اشتعال انگیز بیانات سے خانہ جنگی کو دعوت دے رہے ہیں۔ دونوں نے ثابت کر دیا کہ وہ راؤنڈ محل کے درباری غنڈے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں گورنر پنجاب نے لکھا کہ گورنر ہاؤس کو جب انھوں نے یرغمال بنایا تو میں نے لوگوں کو روکا تھا لیکن اب حملہ ہوا تو نتائج مختلف ہونگے اور خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔

اپنی ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ پنجاب میں سسیلین مافیا ایک ماہ سے غنڈہ گردی سے آئین وقانون کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ گورنر ہاؤس پر حملہ ہوا تو نتائج کی ذمہ داری وزیراعظم پاکستان، وزیر داخلہ، اٹارنی جنرل اور غیر آئینی وزیراعلیٰ پر ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ حلومتی ارکان خود حالات کو خانہ جنگی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جن کی ذہنیت، خصلت اور قابلیت  میں سپریم کورٹ پر حملہ، میمو گیٹ، ڈان لیکس جیسی قومی اداروں کے خلاف سازشیں ہوں۔ ایسے عناصر کا بیرونی سازشوں میں کلیدی کردار ہوتا ہے کیونکہ لوٹ مار کا سارا مال ان کے بیرونی آقاؤں کی حفاظت میں رہتاہے۔ قومی اداروں کی بدنامی ان کا پہلا ہدف ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر پنجاب کو میری منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتا، صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی

دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کیلئے وزیراعظم کی ایڈوائس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر پنجاب کو میری منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا۔ آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 3 کے تحت گورنر میری رضامندی تک اپنے عہدے پر رہیں گے۔

صدر مملکت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو کسی عدالت سے سزا ہوئی ہے اور نہ ہی ان پر کسی قسم کی بد انتظامی کا کوئی الزام ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی بھی نہیں کی۔ اس لئے ان کو عہدے سے نہیں ہٹایا نہیں جا سکتا۔ بطور صدر میرا فرض ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت ملکی اتحاد کی نمائندگی کروں۔

صدر مملکت عارف علوی نے بیان میں کہا کہ پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر گورنر پنجاب نے رپورٹ ارسال کی تھی جس میں وزیراعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار کے استعفے اور وفاداریوں کی تبدیلی پر بات کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کیہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ گورنر عمر سرفراز چیمہ کو ان کے عہدے سے ہٹانا انصاف کے اصولوں کیخلاف اور غیر منصفانہ ہوگا۔ آرٹیکل تریسٹھ اے اراکین اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

صدر پاکستان نے کہا کہ میں اس مشکل گھڑی میں پاکستانی دستور کے اصولوں پر قائم رہنے کے لئے پرعزم ہوں۔ اس لئے میں گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس مسترد کرتا ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ موجودہ گورنر عمر سرفراز چیمہ صاف وشفاف جمہوری نظام کی حوصلہ افزائی کے لئے اپنے عہدے پر قائم رہیں۔ خیال رہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے کے لئے وزیراعظم شہباز شریف نے دوسری سمری یکم مئی کو ایوان صدر بھیجی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے