کراچی: جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ پر خودکش حملے کے بعد سیکیورٹی کے نام پر اٹھائے گئے اقدامات طلبا و طالبات کیلئے اذیت کا باعث بننے لگے۔
تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی انتظامیہ کی جانب سے ناقص سیکیورٹی کی خفت مٹانے کیلئے طلبہ کو پریشان کیا جانے لگا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر طلبہ کو گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو گیٹ پر روکا جارہا ہے، کیمپس میں ٹرانسپورٹ پر پابندی اور یونیورسٹی شٹل سروس بھی انتہائی محدود کردی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ و طالبات شدید گرمی میں مین گیٹ سے ڈیپارٹمنٹ تک پیدل جانے پر مجبور ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ لمبی قطار لگا کر جامعہ کراچی میں داخل ہوتے ہیں تو شٹل دستیاب ہی نہیں ہوتی، اس گرمی میں ڈیپارٹمنٹس تک پیدل جانا پڑرہا ہے، جس کے باعث سخت پیاس لگتی ہے تاہم کینٹین ہی بند پڑی تھی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ جامعہ کراچی کو بند کردیا جاتا۔
کینٹینز خود کش حملے کے تناظر میں سیکورٹی کو بنیاد بنا کر بند ہیں لیکن اس بندش سے جامعہ کراچی کے 44 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عید الفطر کی تعطیلات کے بعد جب پیر سے جامعہ کراچی کھولی گئی تو کینٹینز مالکان کو اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی اور جامعہ کراچی میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے محض ڈیٹا جمع کرنے کے نام پر کئی درجن کینٹینز و فوڈ اسٹالز چار روز سے بند ہیں جس کی وجہ سے طلبہ گرمی سے بچنے کیلئے پانی اور جوس بھی خریدنے سے محروم ہیں، کھانے اور پینے کی اشیاء ناپید ہوچکی ہیں۔
