اسلام آباد:سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ڈالر گر رہا ہے، روس نے یقین دلایا تھا کہ گندم 30فیصد کم رعایت پر دیں گے اور ہمیں روس سے یقین دہانی پر امید تھی کہ سبسڈی کم ہو جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ یہ پہلے ہمیں کہتے تھے ملک میں مہنگائی ہے اور میرا موقف تھا عالمی سطح پر پرائس سائیکل سے قیمتیں بڑھیں، اس وقت عمران خان نے سوچا کہ عوام کو ریلیف دینا چاہیے اور ہم نے 466روپے کی سبسڈی کا پورا بندوبست کیا تھا۔
شوکت ترین نے کہا کہ ہم مالیاتی خسارہ کنٹرول میں چھوڑ کر گئے تھے اور ایکسپورٹ، ترسیلات بڑی صنعتوں میں گروتھ ریکارڈ پر ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ڈالر گررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شرح سود 17، 18 فیصد پر پہنچ گیا ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی ہو رہی ہے لیکن حکومتی سطح پر کوئی اقدامات نہیں لیے جا رہے۔ سعودی عرب، چین، آئی ایم ایف ان کو گھاس بھی نہیں ڈال رہے۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ مارکیٹ کو مضبوط فیصلے چاہیئیں اور اس وقت تمام معاشی مسائل کا حل صرف الیکشن ہے۔
