English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سودی نظام ختم کرنے کیلیے پارلیمنٹ بالخصوص جے یو آئی اپنا کردار ادا کرے ، ملی یکجہتی کونسل

القمر
کراچی: ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی صدر اسد اللہ بھٹو ادارہ نورحق میں شریعت عدالت کی جانب سے سود کیخلاف تاریخی فیصلے کے حوالے سے صوبائی کونسل کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر سابق رکن قومی اسمبلی اسداللہ بھٹو کی زیر صدارت ادارہ نور حق میں صوبائی کونسل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں کونسل میں شامل جماعتوں کے قائدین اور رہنمائوں نے شر کت کی ۔ اجلاس میں وفاقی شریعت عدالت کی جانب سے ملک میں سود اور سودی معیشت کے خاتمے اور بلا سودی بینکاری نظام رائج کرنے کے لیے ضروری قانون سازی کرنے کے حوالے سے تاریخی فیصلے کا بھر پور خیر مقدم کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پوری قوم وفاقی شریعت عدالت کے تاریخی فیصلے کی پشت پر ہے اور حکومت کو اس فیصلے سے کسی صورت میں بھی روگردانی نہیں کرنے دی جائے گی ۔ اجلاس میں منظورکی جانے والی قرار داد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ شریعت عدالت کے تاریخی فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور وفاقی حکومت اور ارکان ِ پارلیمنٹ ضروری قانون سازی کے لیے اپنی ذمے داری پوری کریں بالخصوص جمعیت علما اسلام جو حکومتی اتحاد کا اہم حصہ ہے اور وفاقی حکومت میں شریک ہے اسے سود کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اجلاس میں ایک اور قرار داد منظورکی گئی جس میں باہومان شیخوپورہ میں قادیانی عناصر کی جانب سے مسجدپر حملے اور زین علی نامی نوجوان کی شہادت پر شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مسجد پر حملہ کرنے والے شر پسند عناصر کے خلاف فی الفور کارروائی کی جائے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سود کے خلاف تاریخی فیصلے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ملی یکجہتی کونسل سندھ کے تحت کراچی ، حیدرآباد ، سکھر ، میر پور خاص ، نواب شاہ ، لاڑکانہ سمیت دیگر شہروں میں سیمینارز کیے جائیں گے ۔ اہم مدارس اور دارالعلوم کے ذمے داران اور مختلف جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کی جائے گی ،ان کو خطوط ارسال کیے جائیں گے اور مولانا فضل الرحمن کا دورہ کراچی کے موقع پر صوبائی کونسل کا وفد ان سے بھی ملاقات کرے گا ۔ اجلاس میں سندھ بھر کے علما کرام ، مشائخ عظام سے اپیل کی گئی کہ جمعہ 20مئی کو مساجد میں خطبوں کے دوران اس تاریخی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے حکومت پر زور دیں ۔ اجلاس میں سود کے خاتمے کے لیے 22سالہ آئینی و قانونی جدو جہد پر جماعت اسلامی کی قیادت اور مقدمے میں معاونت کرنے والے علما کرام و ماہرین قانون اور تنظیم اسلامی کے ذمے داران سمیت تمام افراد کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے اپنا کردار ادا کیا ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ وفاقی شریعت عدالت کے تاریخی فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس اب کوئی جواز باقی نہیں رہاہے کہ ملک میں سودی معیشت اور سودی بینکاری کا نظام جاری رکھے ۔ حکومت کا فرض ہے کہ اب فی الفور شرعی اور آئینی تقاضا پورا کرے ۔ سود کی لعنت سے نجات حاصل کی جائے اور سودی معیشت ختم کی جائے تاکہ مملکت خداد داد پاکستان اپنے قیام کے مقاصد سے ہم آہنگ ہو سکے ۔ ۔ سودی نظام کو جاری رکھنا اور اس کے حق میں دلائل دینا اللہ اور اس کے رسولؐ سے کھلم کھلا بغاوت کے مترادف ہے ۔ سودی قرضوں نے ملک اور قوم کو تباہی اور بربادی سے دوچار کر دیا ہے ۔ ان سے نجات حاصل کیے بغیر ترقی ، خوشحالی اور کامیابی ممکن نہیں ۔ اجلاس میں محمد حسین محنتی ،قاضی احمد نورانی ،برجیس احمد ، مسلم پرویز، سید عقیل انجم قادری ،صابر ابو مریم، حشمت اللہ صدیقی ، قاری محمد ادریس قاضی ، ڈاکٹر محمود عالم آسی، خرم جہانگیری،محمد اعجاز مصطفی ، عمران احمد سلفی ، قاری محمد حسنین ، صلاح الدین ، لئیق احمد ، حافظ محمد امجد اسلام ، حافظ محمد انوار ،مجاہد چنا،زاہد عسکری و دیگرنے شرکت کی ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے