English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خودکشی کے نام پر خواتین کا قتل بند کرنا پڑے گا ، لاڑ عورت فورم

القمر
بدین: لاڑ عورت فورم کے تحت عورت کانفرنس میں شریک شرکاء

بدین (نمائندہ جسارت) عورت کو اپنے حقوق اور غلامی کی زنجیروں سے آزادی کے لیے تعلیم شعور اور معاشی طور مضبوط فن اور ہنر یافتہ ہونا پڑے گا خودکشی کے نام پر عورت کا قتل عام بھی بند کرنا پڑے گا، لاڑ عورت فورم سے خواتین سیاسی سماجی علمی ادبی شخصیات کا خطاب۔تفصیلات کے مطابق لاڑ عورت فورم کی جانب جیم خانہ بدین ہال میں منعقد عورت کانفرنس میں سندھ کی نامور اور معروف خواتیں علمی ادبی سیاسی سماجی شخصیات پروفیسر حسین مسرت شہناز صدیق راہو پروفیسر ڈاکٹر طفیل احمد چانڈیو ایڈوکیٹ ریحانہ گجر سفینہ حیدر ساجدہ ٹالپور ایڈوکیٹ امیر آزاد پھنور عزیزاللہ ڈیرو تنویر احمد آرائیں دریشوار چنہ حمیدہ خاصخیلی حمیرہ آریسر اور عورت کانفرنس کی آرگنائزر بختاور جمالی اور دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر پروفیسر حسین مسرت پروفیسر طفیل احمد چانڈیو شہناز صدیق راہو نے خطاب کرتے ہوئے کہا عورت کو ہم کو تاریخ کے پس منظر میں دیکھنا ہو گا کہ کب اور کہاں کیوں اور کس لیے مرد اور عورت کی برابری ان کے حقوق ان کے کردار حیثیت کے مسئلہ پر تنازع اختلافات اور نفرت کا آغاز ہوا اور عورت کے ساتھ امتیازی سلوک میں کمی کی بجائے شدت اختیار کی جبکہ ہر مذہب دین آئین قانون منشور معاشرے تہذیب ثقافت میں عورت کو مساوی حقوق حاصل ہیں پر افسوس آج کے اس جدید اور میڈیا کے دور میں بھی عورتوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں ظلم جبر ستم زیادتی ناانصافی کا شکار ہیں ہمارے معاشرے میں ماں کو ایک عظیم اور مقدس رشتے کی حیثیت تو حاصل ہے پر وہ ماں ایک عورت کی حثیت سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے۔ مقررین نے کہا مرد طاقت اور عورت بناوٹ یا خوبصورتی بنیاد پر اپنی حیثیت اور اختیار کو منوانے کی جنگ کشمکش میں جب جذبات کا استعمال کرتے ہیں تو پھر نفرتوں اور ناانصافیوں کا آغاز ہو جاتا ہے اور پھر مرد عورت کی کمزوریوں کی تلاش میں ہر حدود پار کر جاتا ہے۔ مقررین نے کہا تلخ اور سخت مرد اپنی اجار داری اور مردانہ حیثیت کو منوانے کے لیے اکثر مرد تمام مذہبی آئینی قانونی اور اخلاقی حدود کو تجاوزات کر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا معاشیات بھی مرد اور عورت کی حیثیت اور اختیار کو نمایاں کرنے کا اہم جز دیکھائی دیتا ہے اس لیے عورت کو معاشی طور پر مضبوط ہونے کے لیے علم اور شعور کے ساتھ فن اور ہنر پر بھی مہارت حاصل کرنی ہوگی جو عورت کو برابری اور مساوی حقوق کا ضامن ہو گی۔اس موقع پر ڈاکٹر پروفیسر طفیل چانڈیو نے کہا آبادی میں برابری ہونے کے باوجود 1930 تک برطانیہ 1974 تک پاکستان میں عورت کو ووٹ کا حق نہں تھا انہوں نے کہا عورت کو وقت اور ارتقا کے سفر کے کے ساتھ ساتھ جبر ظلم زیادتیوں کے برداشت کے بعد جو کچھ ملا ہے وہ عورت کی اپنی برداشت ہمت اور جرات سے ملا ہے کسی اور کی مہربانی نہیں ہے کیوں کہ عورت حکومت معاشری کمزور قانون کا تو شکار ہے پر حقیت یہ بھی ہے کہ عورت تو اپنے گھر اور خاندان کے علاوہ قریبی مرد عزیز اور رشتوں کی نظراندازی تذلیل حکارت نفرت رسوائی ظلم زیادتی کا شکار بنتی رہی ہے اور غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہتی ہے۔ خواتین حقوق کے لیے سرگرم خواتین رہنما پروفیسر حسین مسرت کا کہنا تھا کہ تعلیم یافتہ گھرانہ کی عورت باشعور ہے اور وہ اب برابری اور مساوی حقوق کہ شراکت دار بنتی جا رہی ہے۔ عورت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواتین سیاسی سماجی سرگرم شخصیات شہناز صدیق راہو کا کہنا تھا کہ عورت کو اپنے حقوق اور غلامی کی زنجیروں سے آزادی کے لیے تعلیم شعور اور معاشی طور مضبوط فن اور ہنر یافتہ ہونا پڑے گا۔ شہناز راہو نے کہا سندھ کی عورت نے صرف اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑی امر ایوب خان کے خلاف فاطمہ جناح کی قیادت میں ضیاء کی بدترین آمریت مشرف کے جمہوریت پر شب خون مارنے کے خلاف شہید بے نظیر بھٹو کی قیادت میں طویل جدوجہد کی جیل قید سختیاں برداشت کی سیاسی جدوجہد کا بھرپور حصہ رہیں ۔اس موقع پر خواتین کانفرنس کی شرکا نے عورت کو مذہبی، آئینی، قانونی اور اخلاقی حقوق دینے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا عورت کو معاشرے کے ظلم ستم جبر کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے یہ ظلم بند ہونا چاہئے ریاست عدلیہ اور پولیس کو عورت کے حقوق اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپنی زمہ داری پوری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔اس موقع پر سندھ کے نامور فنکار عباس فقیر عبداللہ آکاش اور فقیر بلاچ حیدری نے فن کا مظاہرہ کیا جبکہ بچیوں کے گروپس نے مختلف انقلابی گیتوں اور ٹیبلوز پیش کر کہ عورت کے حقوق کو آجاگر کیا اور عورت پر ہونے والے تشدد ظلم جبر ناانصافیوں کی نشاندہی کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے