کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد ائر پورٹ سمیت اہم مقامات کی سیکورٹی سخت کردی گئی،شہرمیں ہونے والے حالیہ دھماکوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را سے براہ راست تعلق رکھنے والے 3ملک دشمن گروہ شامل ہیں، جن میں متحدہ لندن گروپ، بی ایل اے اور ایس آر اے شامل ہیں،۔ اس بات کا انکشاف کراچی میں ہونے والے حالیہ دھماکوں سے متعلق قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تجزیاتی رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں ہونے والے خودکش دھماکے سمیت تینوں بم دھماکوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر اور کھارادر کی بولٹن مارکیٹ دھماکوں میں 3 دہشت گرد گروہوں نے ایک دوسرے کی معاونت کی۔ رپورٹ کے مطابق متحدہ لندن کے سلیپر سیل سے مبینہ طور پر علاقے کی ریکی کا کام لیا گیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ماضی میں اس طرح کے بم بنانے اور نصب کرکے دھماکے کرنے کا کام کالعدم بی ایل اے کا طریقہ رہا ہے جب کہ سندھ ریولویشن آرمی صوبے کے اندورنی علاقوں میں ایسا کام کرتی رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ دھماکوں میں بم نصب کرنے اور دھماکے میں کالعدم ایس آر اے کی مدد لی گئی ہے جبکہ دھماکوں کا مقصد قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ تجارتی علاقوں کو نشانہ بنانا ہے۔ علاوہ ازیں کراچی میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے دفاتر کی سیکورٹی سخت کرنے کا احکامات جاری کردیے گئے ہیں، خصوصی طور پر پی آئی اے، سی اے اے ہیڈ کوارٹرز سمیت دیگر دفاتر اور اہم مقامات کی نگرانی سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ائر پورٹس کے رن وے ایریاز میں ملازمین کے اسمارٹ فون کے استعمال ، بلا ضرورت ائرپورٹ اور دفاتر آنے والے وزیٹرز کے داخلے پر پابندی عاید کردی گئی ہے، سی اے اے اور پی آئی اے دفاتر میں ویجیلنس کو ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کوئیک رسپانس فورس کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی پولیس نے بولٹن مارکیٹ دھماکے کا مقدمہ ایس ایچ او کھارادرماجد علوی کی مدعیت میں زیردفعہ 302/324/427/34اور3/4ایکسپلوزایکٹ اورانسداددہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7/ATAکے تحت مقدمہ الزام نمبر30/2022درج کرلیا ہے مقدمہ میں نامعلوم دہشت گردوں اورانکی فنڈنگ میں ملوث تمام سہولت کاروں کونامزدکیا گیا ہے۔جبکہ بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والی 36سالہ ثانیہ کی نماز جنازہ الانہ مسجد نشتر روڈ پر ادا کردی گئی، نماز میں صوبائی وزراء کے علاوہ شہریوں،عزیز اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ثانیہ 3بچوں کی ماں تھی جو اپنا گھر چلنا کے لیے گھر میں ڈوپٹے تیار کرتی اورانہیں بولٹن مارکیٹ میںکپڑے کا کام کرنے والے تاجروں کو فروخت کرتی تھی، دھماکے والے دن بھی اپنے بیٹے کے ساتھ ڈوپٹے فروخت کرنے بولٹن مارکیٹ کراچی (رپورٹ: خالد مخدومی) ایس آر اے اور بی ایل اے کی شہر میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیاں دونوں ملک دشمن تنظیموں کا اپنے اندورنی خلفشار کو کم کرنے کی کوشش ہے، ان دونوں تنظیموں کے معاملات پر نظر رکھنے والے افراد کے مطابق اندرونی اختلاف ایک بڑی مثال چند ماہ قبل افغانستان میں بی ایل اے سربراہ اسلم بلوچ کا قتل ہے کہتے ہیں کہ اسلم بلوچ کو اپنے ہی ساتھیوں کی مخبری پر پاکستانی ایجنسیوں نے افغانستان میں ڈھونڈ نکالا تھا جو کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بتایا جاتا ہے۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے سے قبل اور بعد میں بی ایل اے سمیت پناہ لیے دیگر بلوچ عسکریت پسندوں کے درمیان چپقلش اب کھلا راز ہے۔ افغانستان میں اسلم بلوچ کے قتل کے بعد بی ایل اے کی قیادت اس کی جگہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن (بی ایس او) کے کبھی سابق صدر بشیر زیب کو ملی بشیر زیب خود بھی بی ایس او کے صدارتی انتخابات میں نہ فقط دھاندلی بلکہ تنظیم کے اندر مخالفین کو دھونس دھمکیوں سے جیتا تھا، مذکورہ معاملات کی اندرونی کہانیاں جاننے والوں کا کہنا ہے کہ بی ایل اے و دیگر عسکریت پسند گروپوں کی قیادت کی طرف سے ‘غیر ملکی’ یا بھارتی ایجنڈا کو من و عن قبول کرنے پر ان گروپوں میں شامل ہونے والے یا کام کرنے والے نوجوانوں میں مایوسی اور ناراضگی پائی جانے لگی تھی۔ دوسری ایک بڑی وجہ پاکستانی فوج اور اس کی ایجینسیوں یا غیر ریاستی، مخالف مسلح گروہوں یا ڈیتھ اسکواڈز کی طرف سے کارروائیوں میں کافی جانی نقصان اور کئی عسکریت پسندوں کے والدین اور گھر والوں تک کی گمشدگیاں ہیں۔ ان گروپوں میں بھرتی ہو کر جانے والے کئی عسکریت پسند نوجوان سمجھتے تھے کہ اختلافات اور حکم عدولی پر ان کے ساتھیوں کو مروانے، ان کو اور ان کے عزیز اقارب کو غائب کروانے میں بھی کچھ کیسوں میں قیادت کا ہاتھ تھا۔ سندھ کے قوم پرست عسکریت پسند گروپ سندھو دیش ریولیشنری آرمی کا قیام 2010 میں عمل میں لایا گیا، اس گروپ اس کے قیام کی وجہ کالعدم جئے سندھ متحدہ محاذ میں اندرونی اختلافات بنی تھی ، کالعدم سندھ لبریشن آرمی اصغر شاہ گروپ بھی کہا جاتا ہے، جس کا سربراہ شاہ عنایت کے نام سے پہچان رکھتا ہے۔ اصغر شاہ 2005 میں گرفتار ہوئے اور پانچ سال کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی جس کے بعد انہوں نے اپنا گروپ بنانے کا فیصلہ کیا۔کالعدم سندھو دیش ریولیشنری آرمی کا کہنا ہے کہ جئے سندھ متحدہ محاذ کے سربراہ شفیع برفت مسلح جدوجہد سے دستبردار ہوگئے تھے، جبکہ اس عرصے میں ان کے 40 ساتھی مختلف واقعات میں مارے گئے اور اس بات پر اختلافات سامنے آئے، ذرائع کے مطابق ایس آر اے سے تعلق رکھنے والے ان ہلاکتوں میں خود ایس آر اے کے کرتا دھرتا افراد کو ملوث سمجھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایس آر اے کی حالیہ کارروائیاں اسی تاثر کو زائل کرنے کی کوشش ہے۔آئی تھی۔
