اسلام آباد(صباح نیوز)قومی اسمبلی اجلاس میں وزرا اور ارکان کی کم تعداد ،جماعت اسلامی کے رہنما، رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے حکومت پر شدید تنقید کے بعد کورم کی نشاندہی کر دی ، حکومتی اتحاد قومی اسمبلی اجلاس میں 86ارکان پورے نہ کرسکا ۔ قومی اسمبلی اجلاس میں منگل کو نجی کارروائی کے روزکا 183نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا تھا جبکہ ایجنڈے کے ایک بھی نکتے پر کارروائی نہ ہوسکی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت 40 منٹ تاخیر سے شروع ہوا تواجلاس میں اپوزیشن بینچز پر تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی عدم شرکت رہی جبکہ حکومتی اراکین کی تعداد تقریباً 35 تھی۔ اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی کی جانب سے توجہ دلا ؤنوٹس کے لیے کہا گیا اس پر جماعت اسلامی کے مولانا اکبر چترالی نے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کے لیے احتجاج کیا، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے مولانا اکبر چترالی کو مائیک دے دیا تو مولانا اکبر چترالی حکومتی وزرا کی عدم شرکت پر حکومت پر برس پڑے اور کہا کہ یہ کیا مذاق ہے کہ ایوان وزرا اور ارکان سے خالی ہے، تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے تو بڑے پرجوش تھے مگر ایوان چلانے کے لیے کیوں جوش نہیں ،میں نے توجہ دلائونوٹس جمع کرایا تھا کوئی جواب دینے والا ہی نہیں تھا میں کورم کی نشاندہی کرتا ہوں کورم کی نشاندہی پر ارکان کی گنتی کی گئی جس پر حکومت کورم پورا نہ کر سکی۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ20مئی صبح ساڑھے 10 تک ملتوی کر دیا گیا ۔
