اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک میں بھی پانی کی قلت ہے لیکن ان کو احساس ہے، ہمارا ستر فیصد پانی آبپاشی کے لئے استعمال ہوتا ہے،آبپاشی کا طریقہ درست کرلیں تو پانی پورا ہوسکتا ہے ہمارا آبپاشی کا نظام بہت پرانا ہے،پانی چوری بہت زیادہ ہے،شہروں میں پانی کا ضیاع ہوتا ہے،پانی زندگی ہے، اس کا ضیاع روکنا ضروری ہے،مساجد اور گھروں میں پانی کے نل کھلے رہتے ہیں،چولستان، روہی اور تھر میں پانی کی کمی سے لوگ مررہے ہیں،چلغوزے کے جنگلات میں آگ لگی بھجانے کے لئے پانی نہیں ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ پانی اور پاپولیشن پلاننگ کے ایشوز ہماری ترجیحات کے منتظر ہیں،ہمارے واٹر سسٹم میں پانی اتنا ہی ہے لیکن اسٹوریج کی صلاحیت کم ہوگئی ہے،چھوٹے چھوٹے واٹر اسٹوریجز ختم ہوگئیں ہیں،گاوں میں شاملات ہوتی تھیں ان پر بھی قبضہ ہو گیا ہے پانی کی قلت، آبادی کی منصوبہ بندی، ماحولیات بہت بڑے ایشوز ہیں،
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمارا آبپاشی کا نظام بہت پرانا ہے،پانی چوری بہت زیادہ ہے،شہروں میں پانی کا ضیاع ہوتا ہے،پانی زندگی ہے، اس کا ضیاع روکنا ضروری ہے،مساجد اور گھروں میں پانی کے نل کھلے رہتے ہیں،چولستان، روہی اور تھر میں پانی کی کمی سے لوگ مررہے ہیں،چلغوزے کے جنگلات میں آگ لگی بھجانے کے لئے پانی نہیں ہے،پانی پر اگر سیر حاصل بحث کرانی ہے تو صرف تقاریر نہ ہوں،دنیا بھر میں ممالک میں یہ سمجھ پائی جاتی ہے کہ پانی کی قلت کتنا بڑا نقصان ہے،پانی کے معاملات پر فیصلے کرنا ہوں گے،پانی کا مسلہ نیشنل ایمرجنسی ہے۔
