پاکستان تحریک انصاف کے راہنما عمران خان خیبر پختونخوا سے اپنے قافلے کے ساتھ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ورکروں کو ریڈ زون کے علاقے میں شامل ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔
اسلام آباد سے ہمارے نمائندوں سارہ حسن، عاصم علی رانا، علی فرقان اور گیتی آرا کی رپورٹوں کے مطابق عمران خان جن کا دعوی تھا کہ وہ دو ملین یا اس سے زائد افراد کو گھروں سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے، غیر معمولی تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پر نہیں لا سکے تاہم جیسے جیسے وہ ڈی چوک کی جانب بڑھ رہے ہیں، جڑواں شہروں سے ان کے حامی ان کی آمد سے قبل ہی بڑی تعداد یہاں پہنچ رہے ہیں۔
وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے موثر انتظامی فیصلوں کے ذریعے آج تمام دن ان کے الفاظ میں ’ فتنہ اعظم ‘ عمران خان کی قیادت میں جس فسادی مسلح جتھے کو قابو کیے رکھا، عوام کے جان و املاک کی حفاظت کی، وہ معزز سپریم کورٹ کے فیصلے کو ڈھال بناتے ہوئے اور واضح عدالتی احکامات کو کھلم کھلا روندتے ہوئے پہنچ گئے ہیں۔
ڈی چوک سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جہاں پولیس آنسو گیس اور شیلنگ کا استعمال کر رہی ہے وہاں مظاہرین نے بھی گرین بیلٹ میں درختوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔
سپریم کورٹ نے لانگ مارچ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ وہ پر امن ریلی نکالیں گے، اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن اور جی نائن کے درمیان ایک گراونڈ میں جلسے لیے لیے انتظامیہ کو جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
دوسری جانب حکومت میں شامل مذاکراتی ٹیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان ڈی چوک آنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے بھی ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس ایک ہی پلان تھا کہ لانگ مارچ کے شرکا کو اسلام آباد داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اب جبکہ عدالت کے حکم پر رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں، لوگوں کو روکنا ناممکن کام ہے۔
