صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں منعقدہ گول میز اجلاس جس میں جرمنی، امریکہ ، ا برطانیہ اور فرانس کے نمائندوں نے شرکت کی ترکی کی نمائندگی کی ہے۔
ایوان صدر کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وفاقی جمہوریہ جرمنی کی چانسلری میں ہونے والی اس ملاقات میں صدارتی ترجمان ابراہیم قالن، جرمن وفاقی چانسلر کے خارجہ اور سلامتی پالیسی کے مشیر ہینز پلوٹنر، امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان، برطانیہ کی قومی سلامتی کے مشیر اسٹیفن لوگرو اور فرانسیسی وزارت خارجہ کی پالیسی اور سلامتی کے امور کے جنرل منیجر فلپ ایریرا موجود تھے۔
اجلاس میں اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں 29تا30 جون کو منعقد ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس اور اس کے تزویراتی تصور، سویڈن اور فن لینڈ کی رکنیت کی درخواست کے عمل، روس یوکرین جنگ میں ہونے والی پیش رفت اور 24 فروری سے بحیرہ اسود میں اناج کی ترسیل کے عمل، ایجیئن اور بحیرہ روم کے مسائل کے علاوہ شام، افغانستان اور ایران جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں یوکرین جنگ کے عالمی اثرات جاری رہنے کے دوران اتحاد کی یکجہتی کی اہمیت اور دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق واضح موقف ظاہر کرنے کی ضرورت پر توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں عالمی خوراک کے حوالے سے بحیرہ اسود کے غلہ کی ترسیل کے عمل کی فوری ضرورت اور سیکورٹی اور اس سلسلے میں ترکی کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
نیٹو کی رکنیت کے لیے سویڈن اور فن لینڈ کی درخواستوں کے تناظر میں اجلاس میں کہا گیا کہ دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کیے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی ہے۔
