ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

میانمار،رکن پارلیمان سمیت 4 افراد کو موت کی سزا سنادی گئی

میانمار میں سن اسی کی دہائی کے بعد موت کی سزا پر پہلی بار عمل درآمد ہوا ہے۔

سزائے موت پانے والوں پر "دہشت گردانہ کارروائیوں” کا الزام عائد کیا گیا تھا،ان میں کارکن کیاو من یو اور ایک سابق قانون ساز بھی شامل ہیں۔

میانمار کے سرکاری میڈیا نے آج بتایا کہ فوجی حکام نے جمہوریت نواز چار کارکنوں کو پھانسی دے دی ہے جن میں جمہوریت کے لیے جد و جہد کرنے والے معروف کارکن کیاو من یو اور ایک سابق قانون ساز اور ہپ ہاپ فنکار فاؤ زیا تھاؤ بھی شامل ہیں۔

تھاؤ معزول رہنما آنگ سان سوچی کی جماعت قومی اتحاد برائے جمہوریت سے رکن پارلیمان رہ چکے تھے۔

اس کے علاوہ جن دو دیگر افراد کو پھانسی دی گئی ہے ان کے نام، ہلا مایو آنگ اور آنگ تھورا زاؤ بتایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ان  شخصیات پر ”وحشیانہ اور غیر انسانی دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے” کی قیادت کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

میانمار میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران موت کی سزا پر عمل درآمد کا یہ پہلا واقعہ ہے، جن افراد کو پھانسی دی گئی ہے ان میں جمہوریت نواز ایک معروف کارکن جبکہ ایک سابق قانون ساز بھی شامل ہیں۔

گزشتہ  سال  میانمار کی کی فوج نے جمہوری حکومت کا تختہ پلٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں