بارش اور سیلاب سے سندھ مکمل طور پر ڈوب گیا سندھ پر حکمرانی کرنے والے حکمران کراچی میں عیاشی کرتے
رہے۔ بارش اور سیلاب کے متاثرین سندھ کے عوام کہتے ہیں کہ ہماری زندگی عزاب بنی ہوئی ہے اور ہم پر حکومت
کرنے والے کراچی کے پوش علاقے کلفٹن اور ڈیفنس میں سکون کی نیند سو رہے ہیں۔
متاثرین کہتے ہیں ہم اپنے گھروں میں بیٹھ سکتے ہیں اور نا ہی سو سکتے ہیں۔ گھروں کے باہر جانے کے لیے سائیکل اور
موٹر سائیکل کے بجائے کشتیاں استعمال کرنی پڑی رہی ہیں۔ ہماری ساری جمع پونجی بارش کی نذر ہو گئی ہے۔
حیدر آباد کے ایک متاثر نے خبروالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتیں حق تو
جتاتی ہیں لیکن اس مصیبت کی کھڑی میں کوئی دیکھائی نہیں دے رہا۔ وزیر اطلاعات نے دورہ کیا اپنی شلوار دونوں ہاتھوں
سے پکڑ کے پھرتے رہے کہ کہیں گندہ پانی نہ لگ جائے۔ ہم سے کوئی پوچھے کہ گھروں میں بھی پانی بھرا ہوا اور باہر
بھی ہماری زندگی کیسے گزر رہی ہے۔
اس وقت سندھ کی صورت حال انتہائی بدتر ہو چکی ہے۔ فصلیں ساری تباہ ہوچکی ہیں۔ زمینیں پانی سے بھری ہوئی ہیں۔
انسانوں کے ساتھ ساتھ زمین کی حالت بھی خراب ہو چکی ہے۔ جس کا اندازہ چند ماہ بعد ہو گامہنگائی کی صورت میں
جب کھانے پینے کی اشیا نہیں ملیں گی۔
پیپلز پارٹی سندھ پر سالوں سے حکمرانی کر رہی ہے لیکن انہوں نے کبھی بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔ کاغذوں میں پل،
سڑکیں اور تعلیمی ادارے بن جاتے ہیں لیکن زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔
ایک شہری نے کہا سندھ کے حکمران اندرون سندھ سے جیت کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں پھر کراچی اور اسلام آباد کے ہو
کر رہ جاتے ہیں۔ اپنے گاؤں دیہاتوں سے دور بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ہماری ویڈیو شیئر کرکے سستی شہرت اور ہمدری لیتے
ہیں۔ ان کا جو کام کرنے کا ہوتا ہے وہ کرتے نہیں۔
