ملک بھر میں مون سون کی بارش اور سیلاب کی وجہ سے جہاں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
وہیں ریلوے کا نظام بھی تباہ ہو گیا ہے۔
ٹرینوں کی آمدورفت میں 20 گھنٹے تک کی تاخیر ہورہی ہے۔ بیشتر ٹرینوں کے شیڈول بھی کینسل کر دیے
گئے ہیں۔
کراچی سے اندرون ملک سروس ہو یا راولپنڈی سے کراچی اور دیگر شہروں کی سروس، اسی طرح لاہور سے
کراچی کی ٹرین سروس بھی شدید متاثر ہے۔ محض چند ہی ٹرینیں ہیں رواں دواں ہیں وہ بھی گھنٹوں کی تاخیر سے
منزل پر پہنچ پارہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ریلوے ٹریک بھی سیلاب کے پانی بھرے ہوئے ہیں۔
پریشان کن سفر کا سوچ کر ہی ہزاروں مسافروں نے اپنی اپنی بکنگ منسوخ کرادی ہیں۔ ریلوے سفر کے ساتھ ساتھ
موٹر ویز پر بھی ٹریفک میں کہیں کہیں خلل ہے۔ اگر موٹروے پر سفر ٹھیک ہو بھی جائے تو نیچے اترتے ہی پانی ملتا ہے۔
ایسی صورت حال میں اندرون ملک سفر کرنے والے افراد اسلام آباد، لاہور ، کراچی اور دیگر شہروں میں پھنس کے
رہ گئے ہیں۔ کراچی سے اسلام آباد گئے ہوئے سینئر صحافی اکبر جعفری اور موسی رضا بھی ایک ہفتہ سے پھنسے
ہوئے ہیں۔ ریلوے اور گاڑی کے ذریعے سفر اس موسم میں آسان نہیں رہا۔
اکبر جعفری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہوٹلز میں جگہ نہیں ہے ۔ ہماری طرح سیکڑوں لوگ پھنسے
ہوئے ہیں۔
ایک دو روز کے لیے کام کی غرض سے دوسرے شہر جانے والوں پر اضافی معاشی بوجھ پڑ رہا ہے۔ جہاز کے ٹکٹ
کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے وہ سفر سے محروم ہیں۔جہاز کا ٹکٹ بھی بہت زیادہ مہنگا ہو گیا۔
بدقسمتی سے پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر کی طرح سرکاری سطح پر بھی لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکے زیادہ سے
زیادہ نوٹ بٹورنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسی تشویش ناک صورت حال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوگوں کو زیادہ
سے سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کرایہ مناسب کر کے جہاں دن میں تین پروازیں ہیں انہیں اگر ڈبل کردیا جائے تو زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کرسکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے پنجاب اور سندھ میں مزید سیلاب کا خدشہ ظاہر کر رکھا ہےجس نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے اور سب ہی جلد از جلد اپنے گھروں کو پہنچنے کی فکر ہے۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کی داد رسی کے لیے آگے بڑھے اور انہیں بہتر اور سستی سہولت فراہم کرے۔
دوسری جانب کوئٹہ خبر ہے کہ کوئٹہ سے پاکستان کے دیگر شہروں کو سروس معطل ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سیلاب کی وجہ سے ٹریک کا ٹوٹ جانا ہے۔ چیف انجنیر کے مطابق مرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے کہ اس کی مکمل بحالی میں ایک مہینہ بھی لگ سکتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس کی مرمت مکمل ہونے میں ایک مہینہ کا وقت لگے گا تو اس دوران لوگ سفر کیسے کریں گے؟ کیا بلوچستان حکومت نے اس بارے میں کچھ سوچا ہے؟
