مون سون کی بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہ کاری کے بعد وفاقی کابینہ نے آئین کی
آرٹیکل 245 کے تحت چاروں صوبوں میں فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے.
فوج سیلاب متاثرین اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں حصہ لے گی. پنجاب نے
ڈیرہ غازی خان کیلیے فوج کی خدمات مانگی تھیں.
کے پی حکومت نے ڈی آئی خان کیلئے ریکوزیشن بھجوائی تھی اسی طرح بلوچستان اور سندھ
نے بھی متاثرہ علاقوں کیلیے فوج کی خدمات مانگی تھیں.
فوج صوبائی حکومتوں اور انتطامیہ کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے گی
انفراسٹرکچر کی بحالی اور خیمہ بستیوں میں متاثرین کو منتقل کرنے میں بھی مدد دے گی.
فوج ویسے بھی متاثرہ علاقوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہے اور گزشتہ کورکمانڈرز کی
کانفرنس میں بھی متاثرہ لوگوں کی مدد پر زور دیا گیا تھا.
عوام کا سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں انہوں نے اپنی اپنی حکومت کے دور
میں کوئی کام کیوں نہیں کیا؟
محکمہ موسمیات نے آج نہیں بلکہ کئی پہلے ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے
پاکستان پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہونے ہیں. اس دوران ہماری حکومتیں کیا سوتی رہی تھیں؟
سول ادارے بنے ہوئے ہیں جن کا کام ہی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی
مرتب کرنا ہوتا ہے وہ کیا کر رہے تھے؟
عوام کا کہنا ہے کہ خدا کے لیے اب تو کچھ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ لو. سیلاب پہلی بار
نہیں آیا. 2010 سے 2012 تک مسلسل سیلاب آتے رہے ہیں.
