عراق میں جاری سیاسی تعطل پرطاقتورشیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر کے سیاست چھوڑنے کے فیصلے کے بعد گزشتہ روزبغداد میں تشدد آمیز واقعات کو روکا نہیں جا سکا ہے۔
آج بھی گرین زون مسلسل میدان جنگ بنا ہوا ہے اور کل سے اب تک پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے جب کہ چار سو سے زیادہ زخمی ہیں۔
خبر کے مطابق، مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور الحشد ملیشیا کے عناصر کے درمیان جاری لڑائی میں دونوں طرف سے ہلکے، درمیانے اور بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔
بغداد کے گرین زون میں جاری تصادم میں مرنے والوں میں زیادہ تر مقتدیٰ الصدر کے حامی شامل ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ مقتدی الصدر کی جماعت کےماتحت السلام بریگیڈ نے گرین زون کے تمام داخلی راستوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے ،جبکہ بغداد میں عراقی پارلیمان کا گھیراؤ بھی کرلیا گیا ہے اور پارلیمان کے اطراف میں جھڑپیں جاری ہیں۔
دارالحکومت بالخصوص گرین زون کی اہم سڑکیں راہ گیروں سے خالی ہیں جبکہ بڑے بڑے ٹرکوں پر مسلح عناصر گشت کررہے ہیں۔
عراقی حفاظتی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ گرین زون میں رہائشی علاقے میں چار راکٹ داغے گئے۔
درایں اثنا ایران نے بغداد میں جاری کشیدگی کےبعد عراق سےمتصل اپنی زمینی سرحد بند کردی ہے تاہم، عراقی شہری ہوا بازی کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات کے باوجود فلائٹ آپریشن بدستور بحال ہے۔
عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کی جانب سے گذشتہ روز سیاست سے سبکدوشی کے اعلان کے بعد چھڑنےوالی جھڑپوں کے بعد الصدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پرقائم ہیں۔ ا
انہوں نے امریکہ، مغرب اور ایران سمیت کسی بھی ملک کی طرف سے عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کومسترد کردیا ہے۔
