تحریر ندیم رضا
پاکستان میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ کئی افراد کے گھر بار اور جمع پونجی سیلاب اور بارش کی نظر ہوگئ۔متعدد افراد موت کی آغوش میں چلے گئے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن کسی کو خیال نہ آیا اور سب ایک دوسرے کے خلاف مقدمہ بازی اور بیان بازی میں لگے رہے۔
اچانک نقصان کی سنگینی کا علم ہوا تو سب نے اس آفت کو اپنے لیے غنیمت جانا۔ باالخصوص حکومت وقت نے جسے پہلے ہی امور چلانے میں انتہائی پریشانی کا سامنا تھا۔ اس نے یکدم سیلاب متاثرین کی جانب بیانات اور توجہ دینی شروع کردی۔
یکدم مون سون کی برسات اور سیلاب سے اموات کی تعداد ساڑھے سات سو کا اعلان کردیا گیا۔ پھر تو سوشل میڈیا پر سندھ سے لے کر خیبرپختونخوا تک تباہی و بربادی کی ویڈیوز شئیر ہونے لگیں۔ وزرا نے بھی اپنے اپنے علاقوں کی پانی میں ڈوبی ہوئی ویڈیوز اپ لوڈ کرکے ہمدردی لینی چاہی۔ یہ وزراء اور رہنماسب حکومت یا اپوزیشن کے وہ ارکان ہیں جن کو گاوں دیہاتوں سے جینے کے بعد اسلام آباد یا بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور دوسرے انتخابات تک عوام کو اپنی شکل نہیں دیکھاتے۔
بحرحال سب نے اس تباہی و بربادی پر 2010 کی طرح چندا مہم زور و شور سے شروع کردی۔ خیال رہے 2022 کا سیلاب اور بارشیں 2010 سے کہیں زیادہ تباہی لے کر آئی تھیں۔ اس کے اثرات سالوں تک دیکھائی دیں گے۔
حکومت کی چندہ مہم انتہائی کامیابی سے جاری ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے محض دو گھنٹے میں عالمی برادری سے ایک کھرب 41 ارب روپے سیلاب فنڈ جمع کرلیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ نے بھی فوری طور ہر پاکستان کے کیے فنڈ کی اپیل کردی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھی دو روزہ دورہ پر پاکستان آئیں گے۔
پاکستان میں مون سون کی بارشوں اور سیلاب سے 10 ارب ڈالرز کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔ بات یہ ہے 2010 کا سیلاب کو یا 2005 کا زلزلہ پوری قوم اور عالمی برادری نے دل کھول کر مدد کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ملنے والی امداد اور فنڈ کی صورت میں رقم اس طرح استعمال نہیں کی جاتی جیسے استعمال کی جانی چاہیے۔
ماضی میں کبھی بھی امداد کا حساب کتاب نہیں دیا۔ اس کی تازہ مثال کورونا اور ٹڈی دل سے بچاو پر عالمی اداروں سے ملنے والے ڈالرز کا کوئی حساب پبلک کو نہیں دیا گیا۔
ماضی کی قدرتی آفات کے دوران حکمرانوں اور بیوروکریسی کی جانب سے کافی دل خراش واقعات منظر عام پر آئے تھے جس نے بحیثیت پوری قوم کا تشخص مجروح کیا تھا۔ عالمی اداروں اور معروف بالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی نے بھی ناراضگی ظاہر کی تھی۔
خدارا ماضی کے اوراق سے کچھ سیکھنے کی عادت ڈالیں۔ کچھ ڈالرز اور امدادی سامان آگے پیچھے کرکے ملک و قوم کی ساکھ داو پر نہ لگائیں۔ مسلمان اور انسانیت کا درس یہی ہے دُکھی افراد کی دل کھول کے مدد کی جائے اور امانت میں کسی قسم کی خیانت نہ کی جائے۔
مجھے یقین ہے اس بات کاکہ ماضی سے زیادہ پاکستان کواندر اور باہر سے امداد ملے گی۔ اس امداد کو ضرورت کے مطابق بہتر منصوبہ بندی کرکے استعمال کیا جائے تو مستقبل میں ایسے خطرات سے بچا جاسکتا ہے۔ نکاسی آب کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
میری ہاتھ باندھ کے گزارش ہے کہ اس بار تمام امداد اور فنڈ کا حساب کتاب رکھا جائے۔ اس حساب کتاب کا ہر پندرہ روز بعد اجرءکیا جائے اور چندہ دینے والوں کے ساتھ بھی شئیر کیا جائے تاکہ ہماری کھوئی ہوئی ساکھ بحال ہوسکے اور ڈونرز کا اعتماد بھی ہم پر قائم ہوسکے۔
