کراچی / لاہور: سندھ اور پنجاب میں فلور ملز کو فراہم کی جانے والی سرکاری گندم کی قیمت میں اضافے کے باعث آٹا مہنگا ہونے کی اطلاعات آنا شروع ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں عوام پر مزید بوجھ پڑنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سندھ کی جانب سے گندم کی نئی فصل کی امدادی قیمت خرید4 ہزار روپے مقرر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آٹا قیمت میں انتہائی اضافہ ہونے سے عوام پر مہنگائی کا ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم کی قیمت 4 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کے اعلان نے ملک بھر بالخصوص پنجاب کی اوپن مارکیٹ میں ہنگامہ پیدا کردیا ہے اور نتیجتاً پنجاب میں نجی گندم کی قیمت بڑھ کر 3400 تا3500 روپے فی من ہو گئی جبکہ کراچی میں قیمت3650 روپے ہو گئی ہے جس وجہ سے فلورملز کو آٹا دستیابی مستحکم رکھنے کے لیے نجی گندم کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں فلور ملز کو فروخت کی جانے والی سرکاری گندم کی قیمت میں535 روپے فی من اضافہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، جس کے بعد سرکاری آٹا تھیلا کی قیمت میں 380 روپے کے لگ بھگ اضافہ ہوگا۔ذرائع کے مطابق 20 ستمبر سے محکمہ خوراک نئی قیمتوں پر عملدرآمد کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گا ۔
سرکاری گندم کی قیمت فروخت 1765 روپے سے بڑھ کر2300 روپے فی من کردی گئی ہے جب کہ اس وقت 980 روپے میں دستیاب 20 کلو آٹا تھیلا کی قیمت بڑھ کر 1360 روپے ہو جائے گی۔اجلاس میں پنجاب میں گندم کی آئندہ فصل کی امدادی قیمت خرید 3 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے گزشتہ روزمحکمہ خوراک کو وفاق سے10 لاکھ ٹن درآمدی گندم خریدنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔
پنجاب کی فلورملز نے محکمہ خوراک سے مطالبہ کیا ہے کہ20 ستمبر سے یومیہ گندم کوٹہ 16200 ٹن سے بڑھا کر کم ازکم20 ہزار ٹن کیا جائے تا کہ نجی مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں کم ہو سکیں اور فلورملز مارکیٹ میں سرکاری آٹا کے ساتھ نجی آٹا کی سپلائی بڑھا کر عوام کو وافر آٹا کی فراہمی یقینی بنا سکیں۔

