گزشتہ دنوں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے رکن ملکوں میں علاقائی تعاون کے حوالے سے گفتگو بھی ہورہی ہے۔ کانفرنس میں سربراہانِ مملکت کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ہوا جس میں وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات کی وجہ سے تبصروں میں ہے۔
موزانہ ہورہا ہے کہ عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں کس کس لیڈر سے ون آن ون ملاقات کی تھی اور شہباز شریف نے کس کس سے ملاقات کی ہے۔ مگر اس مرتبہ دبنگ انٹری اور سربراہانِ مملکت دنگ رہ جانے والے ٹرینڈ نہیں چل رہے ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 1996ء میں علاقائی تعاون کو فروغ دینے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اس تنظیم کے مقاصد میں خطے میں باہمی تعاون کی فضا قائم کرنا شامل تھا۔
اگر پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کو دیکھا جائے تو یہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ملک ہے۔ بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گیس پائپ لائن کی ضرورت ہے جو ایران سے یا ترکمانستان سے آسکتی ہے مگر دونوں پائپ لائنوں کو بھارت تک پہنچنے کے لیے پاکستان سے گزرنا ہوگا۔ اسی طرح اگر بھارت کو اپنی مصنوعات کو زمینی راستے سے ایران، افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچانا ہے تو بھی راستہ پاکستان سے ہوکر گزرتا ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif and Russian President H.E Vladimir Putin shake hands ahead of their meeting in Samarqand Uzbekistan. pic.twitter.com/lQHKeGEfQe
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) September 15, 2022
