اسلام آباد: روس یوکرین تنازعہ ، موسم سرما میں پاکستان میں گیس کی قلت کا خدشہ،گیس کی عالمی قیمتوں میں تین گنا اضافہ،41 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئیں،پاکستان کے قدرتی گیس کے ذخائر 9 فیصد سالانہ کی شرح سے کم ہونے لگے۔
ملک مہنگی ایل این جی کا متحمل نہیں،قطر سے معاہدے کی فوری ضرورت۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق روس اور یوکرین تنازعہ کی وجہ سے رواں موسم سرما میں بین الاقوامی مارکیٹ میں گیس کی قلت کا خدشہ ہے اور اس تعطل کا پاکستان پر بھی اثر پڑے گا۔
سخت سردی سے بچنے کے لیے حکومتی سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔وزارت توانائی اور پاور ڈویژن کے سیکشن آفیسر محمد فرخ نے ویلتھ پاک کو بتایا کہ موسم سرما میں گیس کی قلت کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے عالمی اسپاٹ مارکیٹوں سے مہنگی گیس خریدنے سے گریز کیاجب کہ دوسری وجہ قدرتی گیس کے ذخائر ہیں جو گزشتہ چند دہائیوں سے تقریبا 9 فیصد سالانہ کی شرح سے کم ہو رہے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کے اقتصادی اعداد و شمار کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں گیس کی کمی کے نتیجے میں ایل این جی کی قیمت میں جولائی 2021 میں 14 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے جولائی 2022 میں 41 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک تین گنا اضافہ ہوا ہے۔چونکہ اس وقت ایل این جی کی قیمت بہت زیادہ تھی اس لیے پاکستان اس کا متحمل نہیں تھااورجون 2022 میں جولائی کے لیے خریداری نہیں کی۔اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت کچھ ایل این جی درآمد کرتا ہے جبکہ کچھ ایل این جی اسپاٹ پرچیزنگ کے ذریعے درآمد کی جاتی ہے۔
