دنیا کے تقریباً تمام اہم ممالک کے سربراہان، مختلف خطوں کے شاہی خاندان، لاکھوں سوگواران اور 10 دن پر محیط تعزیتی تقریبات، یہ سب حصہ تھے ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات کے جن کی بالآخر پیر کو تدفین کردی گئی۔
دنیا بھر میں آخری رسومات کو براہِ راست نشر کیا گیا اور بلاشبہ کروڑوں لوگوں نے تاج برطانیہ پر 70 سال راج کرنے والی ملکہ کی تدفین کا تاریخی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
Her Majesty The Queen’s coffin makes its final journey down the Long Walk to Windsor Castle for the Committal Service at St George’s Chapel. pic.twitter.com/vqczfMENlM
— The Royal Family (@RoyalFamily) September 19, 2022
ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت اور وفود شریک ہوئے۔ عالمی رہنمائوں کے علاوہ یورپ کے شاہی خاندانوں کے افراد نے بھی اس تاریخی ایونٹ میں شرکت کی۔ یورپ کے شاہی خاندانوں میں سے ڈچ بادشاہ ولیم الیگزینڈر، بیلجیم کے کنگ فلپ، ناروے کے بادشاہ ہرالڈ پنجم، ڈنمارک کی ملکہ مارگریتھ دوم اور اسپین کے بادشاہ فلیپ ششم، ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شریک ہوئے۔
1953: The first time the Crown was placed on Queen Elizabeth II’s head
2022: The Crown leaves Elizabeth II’s possession for the final time. pic.twitter.com/tPRrBfM5Nx
— Charlie Proctor (@MonarchyUK) September 19, 2022
پیر کے روز ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات کے دوران ویسٹ منسٹر ایبی، اطراف کے علاقوں اور ونڈسر کاسل کے قریب لاکھوں افراد موجود رہے جو ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے تھے۔ یہ لوگ صرف اسی موقع پر اکٹھے نہیں ہوئے بلکہ اس سے قبل بھی جب ملکہ کا تابوت ویسٹ منسٹر ہال میں 4 روز تک موجود رہا اس دوران لاکھوں سوگواران نے ان کے تابوت کی زیارت کی اور بہت سے لوگوں کو اس طویل قطار میں 14 گھنٹے تک بھی انتظار کرنا پڑا۔
قطار مختلف اوقات میں گھٹتی اور بڑھتی رہی لیکن مجموعی طور پر اس کی طوالت 4 سے 5 میل رہی اور بے شمار لوگ ٹھٹرتی راتوں میں سرد موسم اور تیز ہوا کے باوجود قطاروں میں موجود رہے۔ چونکہ قطار مسلسل چل رہی تھی اس لیے ان لوگوں کا درمیان میں بیٹھنا اور سستانا ممکن نہ تھا۔ اس موقع پر ملکہ کے تابوت کی زیارت کرنے والوں کے لیے 500 عارضی ٹوائلٹس کا بھی انتظام کیا گیا۔ ویسٹ منسٹر ایبی کے اطراف سیکیورٹی اور ٹریفک کنٹرول کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ معمولاتِ زندگی بھی رواں دواں رہیں۔
برطانیہ بھر سے آنے والے لوگوں کے لیے یہ ایک تاریخی موقع تھا۔ وہ ملکہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرکے ان تاریخی لمحات کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ سابق برطانوی فٹ بال کپتان ڈیوڈ بیکھم لوگوں اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے جو 12 گھنٹے قطار میں انتظار کے بعد ویسٹ منسٹر ہال کے اندر پہنچے اور ملکہ کے تابوت کا آخری نظارہ کیا۔
David Beckham wiped away a tear as he paid his respects to the Queen after queueing for 13 hours.
Beckham slowly bowed his head and stared at the floor as he viewed the Queen’s coffin.
Read more here: https://t.co/d1vJyHthxE pic.twitter.com/hsv3OoAFMO
— Sky News (@SkyNews) September 16, 2022
انہی کی طرح لاکھوں دیگر افراد بھی اس دوران مسلسل سڑکوں پر رہے، وہ اپنے ساتھ ملکہ کی تصاویر اور پھول اٹھائے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں برطانیہ کا قومی پرچم اور دیگر برطانوی اکائیوں کے پرچم بھی موجود تھے۔
ان راتوں میں خاص کر ایک طرح کی فیسٹیویٹی کا سا سماں تھا۔ اگرچہ ملکہ الزبتھ کی موت سے فضا بوجھل اور سوگوار بھی تھی لیکن ان سے عقیدت رکھنے والوں کی پُرجوش محبت سے ویسٹ منسٹر اور سنٹرل لندن کسی میلے کا سماں پیش کررہا تھا۔ پورے پورے خاندان سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پارکس میں موجود تھے۔
ملکہ سے منسوب ہر تاریخی عمارت کے اردگرد پھولوں کی بہتات تھی۔ دوکانوں، شاپنگ سینٹرز، مرکزی جگہوں اور عوامی مقامات پر ملکہ الزبتھ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں کی گئی تھیں۔ مقامی کونسلز میں دعائیہ تقریبات ہوئیں اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔
The Cavalry Last Post is sounded by the State Trumpeters of the Household Cavalry before the Nation fell silent in Remembrance of Her Majesty The Queen. pic.twitter.com/ap5ccCiQW2
— The Royal Family (@RoyalFamily) September 19, 2022
جنازے سے قبل آخری رات، یعنی اتوار کو رات 8 بجے ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی جس دوران تمام معمولاتِ زندگی معطل کرکے برطانوی شہری ملکہ الزبتھ دوم کے اعزاز میں خاموش کھڑے ہوئے۔
یہ تو تھا تدفین سے قبل کا احوال جبکہ جنازے کا دن بھی سرگرمیوں اور شاہی روایات کی پاسداری سے بھرپور تھا۔ ملکہ الزبتھ کو اسٹیٹ فیونرل یعنی سرکاری تدفین سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز برطانیہ میں عموماً شاہی خاندان یا سلطنت کے لیے ناقابلِ فراموش کردار ادا کرنے والے افراد ہی کو دیا جاتا ہے۔ ملکہ الزبتھ سے قبل آخری بار سرکاری تدفین سر ونسٹن چرچل کی ہوئی تھی جنہیں 1965ء میں بھرپور قومی اعزازات کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔
پیر کے روز، آنجہانی ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات، شاہی چرچ ویسٹ منسٹر ایبی میں دن 11 بجے کے قریب شروع ہوئیں۔ اس دوران سیکیورٹی کے مثالی انتظامات کیے گئے تھے۔ آخری رسومات میں شور سے بچنے کے لیے کچھ دیر کے لیے پروازیں روک دی گئیں جبکہ ویسٹ منسٹر ایریا کے قریب ترین انڈر گراؤنڈ اسٹیشن بھی بند کردیے گئے۔
ملکہ کا جنازہ، تدفین اور آخری رسومات، تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامی لحاظ سے بذاتِ خود ایک بہت بڑا اور نمایاں آپریشن تھا۔ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ لندن میٹروپولیٹن پولیس کےعلاوہ برطانیہ کی دیگر پولیس فورسز سے سیکڑوں اضافی اہلکار طلب کیے گئے تھے۔ بلاشبہ برطانیہ اور دنیا بھر سے لاکھوں سوگواروں کے ساتھ ساتھ سربراہان کی آمد برطانیہ کی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج تھا جسے اس نے بخوبی نبھایا۔
جنازے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے سوگواران نے پہلے ہی سے سینٹرل لندن اور جنازے کے روٹ کے اطراف جمع ہونا شروع کردیا تھا۔ اگرچہ یہ لوگ ملکہ کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے تھے لیکن عقیدت کے اظہار کے لیے یہاں موجود تھے۔ چونکہ برطانیہ بھر میں پیر کے دن عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا اس لیے ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد نے ملکہ کے آخری دیدار کے لیے لندن کا رخ کیا۔
The roads leading to Windsor are full of mourners who have come out to pay their respects to Queen Elizabeth II pic.twitter.com/AlOF0DZ1Fb
— Royal Central (@RoyalCentral) September 19, 2022
ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات دکھانے کے لیے ٹی وی چینلز نے بھی خصوصی انتظام کیے تھے جبکہ برطانیہ بھر میں بہت سے عوامی مقامات اور سینما گھروں میں بھی یہ مناظر براہِ راست دکھائے گئے۔
ملکہ الزبتھ دوم کی میت دعائیہ تقریب کے بعد ویسٹ منسٹر ایبی سے لندن کے ہائیڈ پارک کارنر میں واقع ولنگٹن آرچ کے لیے روانہ ہوئی جہاں سے اسے آخری منزل ونڈسر کاسل لے جایا گیا۔ اس دوران شاہی گارڈز اور برطانوی مسلح افواج کے دستے، چابک دستی اور بھرپور شاہی اعزاز کے ساتھ ملکہ کی میت کے ساتھ چلتے رہے۔
لندن سے ونڈسر کاسل تک قدم قدم پر برطانوی شاہی روایات کے تاریخی نظارے دیکھنے کو ملے، جیسے
تابوت کو گن کیرج میں رکھ کر گھوڑوں یا موٹر کے بجائے نیوی کے 142 اہلکاروں کا اپنے ہاتھوں سے کھینچنا،
شاہی فوج سے تعلق رکھنے والے مختلف دستوں کی اپنی منفرد وردیوں کے ساتھ جنازے میں شرکت،
میت کے اطراف موجود دھنیں بکھیرتے سازندے جن کی دھنوں سے سارا ماحول مزید سوگوار ہوتا رہا،
تاریخی گرجا گھروں میں منعقد ہونے والی دعائیہ تقاریب،
میت کے احترام میں دیے گئے گن سیلوٹ،
لندن کے تاریخی بگ بین کی وقفے وقفے سے خلافِ معمول بجنے والی مخصوص گھنٹی،
شاہی خاندان کے افراد کا میت کے ساتھ پیدل مارچ اور
سڑکوں کے اطراف کھڑے، آنسو بہاتے، ملکہ کو یاد کرتے لاکھوں سوگواران۔
Unforgettable. I’ll have goosebumps forever. 🇬🇧👸#queensfuneral #QueenElizabethII #QueenElizabethIIMemorial pic.twitter.com/KlxN2JUvE7
— Antonello Guerrera (@antoguerrera) September 19, 2022
