صدارتی اطلاعاتی مرکز کی جانب سے ترکیہ کے نکتہ نظر کو کامیابی سے پیش کیا جانا یونان کے سامنے ایک مثال کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
یونانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ "ترکی کے خلاف پروپیگنڈا کرنے” کے لیے ملک میں ایک "کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ” قائم کیا جائے گا۔
"رئیل نیوز” اخبار کی خبر کے مطابق یونان "ترکیہ کے کمیونیکیشن ماڈل” کی کامیابی سے متاثر ہوا ہے جس نے دنیا کے سامنے ترکیہ کے نکتہ نظر کو کامیابی سے پیش کیا۔
"انقرہ کے خلاف کمیونیکیشن ٹاسک فورس” کے عنوان سے شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ "یونان نے ایک کمیونیکیشن پریذیڈنسی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ترکی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے طور پر کام کرے گی اور یہ عمل تیزی سے جاری رہے گا۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ "اس خصوصی گروپ کا کام مواصلاتی رابطہ فراہم کرنا، معلومات اور ڈیٹا کا انتظام کرنا اور مواصلاتی سطح پر ترکوں کی ہر قسم کی سرگرمیوں کا فوری اور سخت جواب دینا ہوگا۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یونانی فریق نے محسوس کیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں بحرانوں کے مواصلاتی انتظام میں خامیاں ہیں اور ترکیہ کے خلاف ایک مواصلاتی موزیک بنانے کی ضرورت ہے، یونانی وزیر اعظم میتچوتاکیس کی صدارت میں گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں مختلف سطحوں پر سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری طور کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خبروں میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ اس مقصد کے لیے بنائی گئی نئی "کمیونیکیشن ٹاسک فورس” ترکی کے خلاف محاذ کھڑا کرے گی، جس نے ایک طویل عرصے سے غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ یونانی حکام کے غیر انسانی رویے کو دنیا کو دکھایا ہے۔
اخبار کے مطابق ہمیں فخر الدین آلتون کے طرز پر یونانی ورژن کو کو آگے لانے کی ضرورت ہے ۔
تھریس ڈیموکریٹس یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر، سوتیرس سربوس، جنہوں نے مضمون لکھا، کہا کہ 24 جولائی کو اخبار میں فخڑ الدین آلتوں کا انٹرویو پڑھتے ہوئے،آلتون کے مقابلے پر یونانی ہم منصب کی ضرورت کو محسوس کیا تھا۔
