English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دعا ہے کشمیر میں منصفانہ فضاء، مستقل امن اور خوشحالی قائم ہو،ترک صدر 

القمر
Turkish President Recep Tayyip Erdogan speaks during a press conference at the Presidential Complex in Ankara where he announced the upcoming electoral timetable on April 18, 2018.
President Recep Tayyip Erdogan called snap elections in Turkey for June 24, bringing the polls forward by over a year-and-a-half to sharply accelerate the transition to a new presidential system. / AFP PHOTO / ADEM ALTAN

 نیویارک: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو اٹھا تے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تاحال امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔

بھارتی ویب سائٹ’’ انڈیا ٹوڈے‘‘ کے مطابق گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلی سطح اجلاس میں عالمی رہنمائوں سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان نے اپنی خود مختاری اور آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے باوجود اب تک ایک دوسرے کے درمیان امن اور یک جہتی قائم نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے، ہم امید اور دعا کرتے ہیں کہ کشمیر میں منصفانہ فضاء، مستقل امن اور خوشحالی قائم ہو۔ترک صدر نے عالمی برادری پر اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کرے۔

بھارتی ویب سائٹ کے مطابق ترک صدر اردوان کا یہ تبصرہ جمعے کے روز ازبک شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے تقریبا 1 ہفتہ بعد سامنے آیا ہے۔

بھارتی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ترک صدر رجب طیب اردوان نے کشمیر پر بات کی ہے، اس سے قبل 2020 میں پاکستان کی پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران انہوں نے کشمیری عوام کی جدوجہد کا موازنہ پہلی جنگ عظیم کے دوران غیر ملکی تسلط کے خلاف ترک عوام کی جدوجہد سے کیا تھا۔

ترک صدر کے اس تبصرے کے بعد بھارت کی جانب سے ان پر تنقید کی گئی تھی اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

واضح رہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اس سے قبل بھی کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے لیے اور ان پر بھارتی ظلم و ستم کے خلاف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے