English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صدر رجب طیب ایردوان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے عالمی رہنماوں سے خطاب

القمر

صدر رجب طیب ایردوان نے عالمی رہنماوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ہماری مشترکہ قسمت  کا متاثر کرنے والے امتحانات کے خلاف  مشترکہ ایجنڈے کے ذریعے کاروائی  کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر ایردوان نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں   اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے  خطاب کرتے ہوئے کیا۔  

انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں    ہماری مشترکہ قسمت  کا متاثر کرنے والے امتحانات کے خلاف  مشترکہ ایجنڈے کے ذریعے کاروائی  کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ منصفانہ دنیا کے لئے  اقوام متحدہ کی تنظیم نو کی ضرورت ہے۔دنیا پانچ سے عظیم تر ہے  اور زیادہ منصفانہ دنیا کے لیے ہم  اپنی جدو جہد کو جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ترکیہ   کو   جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے  وہکرتا رہے گا اور اس سے دستبردار نہیں ہوگا۔ میں ایک بار پھر واضح کردوں  ہم دہشت گردی کے خلاف تمام ممکنہ اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ  کہ عراق  کے حالات کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے دہشت گرد تنظیمیں ترکیہ کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کاروائی کو کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔  

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ کا اپنے اتحادیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یکجہتی کی توقع کرنا اس کا  فطری حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونان  کا  تارکین وطن پر ظلم و ستم میں اضافہ ہوا ہے ، صدر ایردوان نے کہا کہ اس ملک نے بحر ایجیئن کو غیر قانونی اور لاپرواہی کے ساتھ پناہ گزینوں کے   قبرستان میں تبدیل کردیا ہے۔ صدر نے جنرل اسمبلی کو تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ  گزشتہ ہفتے   ، "9 -ماہ کے شیر خوار بچے  عاصم  ، 4 سالہ عبد الوحم اور اس کے اہل خانہ ، یونانی کوسٹ گارڈ فورسز کی جانب سے کشتیاں ڈبوی جانے کے نتیجے میں جان بحق ہوگئے ۔ صدر ایردوان   نے ایتھنز انتظامیہ کی اشتعال انگیزی اور پیدا کردہ کشیدگی   کو ایک طرف رکھتے ہوئے  ترکیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کرنے والے صدر ایردوان نے شمالی  قبرصی ترک جمہوریہ  کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے  کی دعوت دی۔ مشرق وسطی میں دو ریاستوں پر مشتمل حل کی حمایت کا اعادہ کرنے والے صدر ایردوان   نے القدس  میں غیر قانونی بستیوں  کی تعمیر کو روکنے ، فلسطینیوں کی زندگی اور املاک کی حفاظت کو یقینی  بنانے اورایک آزاد فلسطین  ریاست کا مطالبہ کیا جس کا دارالحکومت  مشرقی القدس  ہو۔  صدر  ایردوان نے  آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین عمل کی حمایت کرتے کا اعلان کرتے ہوئے  کہا کہ آذربائیجان کی مقبوضہ سرزمین کو آزاد کروانے سے مستقل امن کےقیام کے لیے  ایک تاریخی کھڑکی کھل گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے